تکون کے چار کونے

منگل 4 مئی 2021

Ammar Masood

عمار مسعود

بحث بہت پرانی ہے کہ ادب کیا صرف خواص کی  میراث ہے یا اس کا عوامی ہونا ہی  کلاسیکی ادب کی دلیل ہے؟ کوئی اہم نکتہ ، کوئی عمل اور تجربے کی بھٹی میں پکا ہوا خیال قارئین تک پہنچانا مقصود ہے یا ذات کا محض سیدھا سادا  اظہار بھی ادب ہے؟کسی نکتہ اور خیال کا ابلاغ  بنیادی شرط ہے یا فن اور صنف ِادب کے تقاضوں کا خیال رکھنا منتہائے مقصود ہونا چاہیے؟
 ایک بہت سادہ سی تقسیم کے مطابق ہمیں ادب کے مطالعے میں دو طرح کی تحریروں کو دیکھنے  کا موقع ملتا ہے؛ ایک وہ جو سہل ہیں، اور دوسری دقیق اور گنجلک ۔

سوال یہ ہے کہ جو تحریریں  عام ذہنی سطح سے بالاتر ہیں کیا وہ ادب نہیں ہے؟ کیا اس کو لکھنے والا ادیب نہیں کہلا سکتا؟ دوسری جانب یہ کہنا کہاں تک درست  ہے کہ جو بات سب کی  سمجھ میں آ جائے وہ ادب نہیں رہتی بلکہ عامیانہ ہو جاتی ہے۔

(جاری ہے)

ان دونوں نظریات  کے اپنے اپنے  ناقدین ہیں، ادب کی مکمل تعریف انہی دو کلیئوں کے درمیان کہیں قید ہے۔ یہ بحث اس لیے چھیڑ دی کہ بہت مدت کے بعد ایک کتاب پڑھی، جس میں یہ دونوں ہی کیفیات شدت سے ملتی ہیں۔

جس کا لہجہ عوامی ہے اور آہنگ فلسفہ ہائے دقیق کی بات کرتا ہے۔
 "وقت سے پرے " عجیب کتاب ہے۔ یہ بوالعجبی کافی نہیں کہ اسے بیک وقت تین مصنفین نے تحریر کیا ہے  بلکہ مقام ِحیرت یہ بھی ہے کہ کتاب پڑھ لینے کے بعد بھی اس کی  صنف کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
اس سے پہلے کہ بات آگے بڑھے اس کتاب کے مصنفین کے بارے میں بتاتا چلوں؛  تین مصنیفین میں ایک تو ہماری دوست ہیں صائمہ زیدی۔

بہت اچھا شعر کہتی ہیں، جرمنی میں رہائش پذیر ہیں، نظم اور غزل کی صاحب ِطرز ادیب ہیں۔ دوسرے مصنف گل شیر ہیں، سرکاری افسر ہیں مگر اس سے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کوکوئی فرق نہیں پڑا، تحقیق اور جستجو کے آدمی ہیں اور ایک ایسے شخص کے عشق میں گرفتار ہیں جو معروف شاعر ، ادیب ، افسانہ نگار ، فلم ساز ،موسیقار اور نغمہ نگار ہے اور جس کو دنیا  "گلزاؔر " کے نام سے جانتی ہے، عمر کا بیشتر وقت "گلزار فہمی "میں گزرا۔

کتاب کی تیسری مصنفہ ڈاکٹر آسمان ہیں جو انقرہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی سربراہ ہیں، معروف علمی اور ادبی شخصیت ہیں، سخن شناس بھی ہیں اور زبان دان بھی ، کئی کتب اور تحقیقی مقالات تحریر کر چکی ہیں، ان کی کتب ترک جامعات کے نصاب کا حصہ بھی بن چکی ہیں۔ اس کتاب  کے الفاظ اور اس کی سطروں میں صرف  یہ تین مصنف ہی نہیں گھلے ملے دکھائی نہیں دیتے بلکہ  اس میں ایک اور رنگ بھی شامل ہے اور وہ رنگ ہے "گلزار" کا ۔


ذکر جہلم کا ہو بات ہو دینے کی
چاند پُکھراج کا رات پشمینے کی
ابتدا میں لگا کہ یہ کتاب ایک سفر نامہ ہے جس میں تین دوست ایک سفر پر نکلے ہیں اور سفر بھی دساور کا نہیں بہاولپور تک ہے۔ کچھ دیر میں یہ عقدہ کھلا کہ یہ سفر نامہ نہیں ہے، روداد ہے تین لکھاریوں کی، جو اپنے اپنے فن کی معراج پر کھڑے "گلزار" سے مخاطب ہیں۔ کچھ صفحات اور پڑھے تو احساس  ہوا کہ یہ روداد نہیں ہے بلکہ ایک فلم کا ریویو ہے، گلزار کی فلم "لیکن" کے کرداروں کی گفتگو ہے ۔

"ایوا" کے پراسرا کردار پر بحث ہے ،"سمیر " کے کردار کا ناقدانہ جائزہ ہے، "معراج علی " کی کہانی ہے۔ "تارا" کی داستان ہے۔ فلم کے بے مثال  مکالمے "وقت بیت جاتا پر مرتا تھوڑی ہے" پر بحث ہے۔ کچھ اور گہری نگاہ سے کتاب کو دیکھا تو انکشاف ہوا کہ یہ تو دراصل شعر کی تاریخ ہے، وؔلی دکنی سے لے کر پروؔین شاکر تک کی کہانی ہے۔ غاؔلب ، مؔیر اور مؔومن کی تسہیل کی کاوش ہے۔

اب قصہ کچھ یوں ہے کہ کتاب ختم ہو چکی ہےاور  کتاب کی طرز  کا فیصلہ نہیں ہو سکا لیکن پھر بھی  زبان کی وسعت، علمی گہرائی اور دانش کی گیرائی  کا ذائقہ ذہن و قلب  پر موجود ہے۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ تین دوست سفر پر نکلتے ہیں۔ سفر بھی ایسا جس کی منزل اہم نہیں،  رستہ اہم ہے۔ رستے میں ہوئی گفتگو اہم ہے۔ فکر کے اسلوب اہم ہیں۔ سوچ کے نئے زاویئے اہم ہیں۔

یہ گفتگو ، یہ سوچ اور یہ فکر ہی یہ کتاب ہے۔  گفتگو کسی ربط میں نہیں لیکن اس بے ربطی کا اپنا حسن ہے۔ گفتگو کا نیوکلیس "گلزار "ہے۔ لیکن بسا اوقات یوں بھی  لگا کہ "گلزار " علامت ہے۔ مقصود محبت ہے۔ محبت کا اظہار اور اسرار ہے۔ اس سفر پر تین مسافر قاری کے ساتھ چلتے ہیں۔ تاریخ ادب کو گنگھالتے ہیں۔ شعر کی دلیل شعر سے دیتے ہیں۔ نظمیں سناتے ہیں۔

فلسفے کی بات کرتے ہیں۔ لفظوں کے نئے معنی تراشتے ہیں۔ عشق کے نئے جہاں تلاشتے ہیں۔
متن سلیس ہے مگر عام فہم نہیں، زبان سادہ مگر موضوعات حکیمانہ اور لہجہ فلسفیانہ ہے۔ یہ مرقع تین دانشور دوستوں کی اپنی داستان بھی ہے اور گلزار سے عقیدت کا اظہار بھی ہے ۔ ہر موڑ پرقاری اس کھوج میں رہتا ہے کہ اب بات کس نکتہ ہائے دانش کی ہو رہی ہے؟ برگساں موضوع ہے یا بلھے شاہ؟ نطشے کا فلسفہ زیرِ بحث ہے یا پھر نظیر اکبر آبادی کا کوئی شعر موضوع ِگفتگو ہے؟ فرائیڈ پر گفتگو ہو رہی ہے یا فرید الدین گنج شکر سے عقیدت کا اظہار مقصود  ہے؟ مسافر، مابعدالطبیعات پر محو کلام ہیں یا مافوق الفطرت حیات کے اثرات پر بحث ہو رہی ہے۔

فلسفہ بشریت کی بوقلمونیوں کا تذکرہ ہے یا بہادر شاہ ظفر کے زوال کے اسباب گنوائے جا رہے ہیں۔ گوتم کا فسلفہ بیان ہو رہا ہے یا پھر "گلزار" کی نظم کا احاطہ ہو رہا ہے؟
علم و دانش کی ایسی ذہین بحث کسی ایک کتاب میں مجتمع ہونا حیرت کی بات ہے۔ سخن شناسی جس معراج پر ہے ،وہ لائق ِتحسین ہے۔  یہ تین دانشور جس طرح "گلزار" سے عقیدت رکھتے ہیں وہ قابل رشک ہے۔

  یہ "گلزار" کی نظم کے بھی  معترف ہیں، فلم سازی کے بھی عقیدت مند  ، گیت کے بھی قتیل، کہانی کے بھی دلدادہ، موسیقی کے بھی شائق ، لیکن سب سے بڑھ کر یہ تین مصنفین "گلزار" کی انسانی نفسیات کی سوجھ بوجھ اور ژرف بینی کے قائل ہیں۔ ان کے مطابق گلزار ہر انگ میں انسانی نفسیات کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے، عجب سادہ سے استعاروں میں بات کرتا ہے، اس جادوگر کو معلوم  ہے  کہ کومل سُر کہاں لگنا ہے؟ تیور نے کہاں سجنا ہے؟ کہاں  شدھ بھاگیشری درکار ہے؟ کہاں ایمن کلیان منظر کی پکار ہے ؟ کب ڈھول کی تھاپ لطف دے گی ؟ کب بانسری کی آواز کانوں میں رس گھول دے گی ؟ کب اونچے سروں میں بات کہلانی ہے اور کب مکالمے کو قفل لگا کر بیک گراونڈ میں شہنائی بجانی ہے ؟ وہ جذبوں کی جزیات سے واقف ہے، سب راگوں کے اثرات جانتا  ہے، وہ ایک لفظ سے کہانی بُنتا ہے، سُر اور  لے سے کرادر تخلیق کرتا ہے، محبت میں موسقیی کا رنگ بھرتا ہے، "لیکن" فلم جیسے پراسرار شاہکار تخلیق کرتا ہے۔


یہ عام  فہم کتاب ہر کسی کو سمجھ میں نہیں آ سکتی، اس کو سمجھنے کی کچھ شرائط ہیں؛ اگر آپ کو صائمہ زیدی کے شعر اور شخصیت  سے محبت ہے تو یہ کتاب آپ  سمجھ سکتے ہیں ، اگر آپ کو گل شیر کی تحقیق اور جستجو سے لگاؤ ہے تو  بھی آپ یہ کتاب سمجھ لیں گے،  اگر آپ کو ڈاکڑ آسمان کی دانش سے واقفیت ہے تو یہ کتاب آپ کی سمجھ میں آ سکتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر آپ کو "گلزؔار"  کے فن سے عشق ہے تو یہ کتاب اپنا مفہوم آپ کے سامنے وا کر دے گی۔ ۔ "وقت سے پرے " میں صائمہ ، گل شیر ، آسمان اور گلزار کی شخصیات ہی محبت کے سب جذبوں کی تفصیل ہیں ۔  یہی  چار کونے ،  اس  انوکھی تکون کی تکمیل ہیں۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Takoon K Char Kooney Column By Ammar Masood, the column was published on 04 May 2021. Ammar Masood has written 171 columns on Urdu Point. Read all columns written by Ammar Masood on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.