صدر مشرف نے بے نظیر سے رابطوں پر اعتماد میں لیا تھا ، ملکی مفادات کی خاطر آپس میں بیٹھ سکتے ہیں،دونوں کی ملاقات کی سرکاری طورپر تصدیق نہیں کی گی ، الیکشن میں پیپلز پارٹی سے مقابلہ کریں گے ، ہمیں پنجاب میں کوئی فکر نہیں ، چوہدری شجاعت حسین

جمعہ جولائی 22:14

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27جولائی۔2007ء) پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ صدر مملکت جنرل پرویز مشرف نے چند روز قبل انہیں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے ہونے والے رابطوں کے بارے میں اعتماد میں لیا تھا ملکی مفادات کی خاطر آپس میں رابطوں میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ، میں نے کبھی منافقت نہیں کی اور جب بھی کسی سے بات چیت ہوگی تو دنیا کے سامنے ہوگی ، صدر اور بے نظیر بھٹو کی ملاقات کی ایوان صدر نے سرکاری طورپر تصدیق نہیں کی ، الیکشن میں مسلم لیگ کا مطالبہ پیپلز پارٹی سے ہوگا ۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کے بعد غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ دو دن قبل ان کی صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات ہوئی تھی جس میں بے نظیر بھٹوسے رابطوں کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا تھا اور میں نے اپنا موقف بیان کردیا تھا اوریہ کہہ دیا تھا کہ حکومت کو بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنے چاہیں ، پاکستان اس وقت جس صورتحال سے گزر رہاہے اس سے نکلنے کیلئے سب کو اتحاد اوریکجہتی کی فضاء پیدا کرنا ہوگی ، صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں اسلام آباد میں بھی بم دھماکے ہو رہے ہیں ، پارٹی سیاسی سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا،بے نظیر بھٹو ہی نہیں باقی لوگوں سے بھی رابطے ہونے چاہیں ، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گزشتہ پانچ سالوں میں پنجاب میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے ہیں اور پارٹی کو منظم بنایا ہے ہمیں کوئی فکر اورڈر نہیں ہے ، جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ نے حالیہ دورہ لندن میں کیا نواز شریف سے ملاقات کی تھی یا علاج کرانے گئے تھے تو انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی منافقت نہیں کی جب بات چیت ہوگی تو ساری دنیا کے سامنے ہوگی ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ سرکاری طورپر ابھی تک صدر مشرف اور بینظیر بھٹو کی ملاقات کی تصدیق نہیں کی گئی ، ٹی وی چینلز نے خبریں دی ہیں ، صدر سے ملاقات میں بے نظیر بھٹو سے حکومت کے رابطوں پر اعتماد میں لیا گیا تھا اور انہیں تیز کرنے کے امور پر بات چیت ہوئی تھی ، انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح کردینا چاہتاہوں کہ آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ کا مقابلہ پیپلز پارٹی سے ہوگا اور مسلم لیگ کامیابی حاصل کرے گی ، تاہم ملکی مفادات کی خاطر آپس میں بیٹھ سکتے ہیں ۔