انقلاب ظلم سے نجات دلانے کے لیے ہے،افواج پاکستان سمیت تمام ادارے انقلاب میں رکاوٹ بننے کے بجائے اس کا ساتھ دیں،الطاف حسین،جنوری کو اسلام آباد میں دنیا کا سب سے بڑا تحریر اسکوائر بننے جارہا ہے مگر یہ پرامن تحریر اسکوائر ہوگا، کوئی تشدد نہیں ہوگا، کوئی گولی نہیں چلے گی، طاہرالقادری، عزیز آباد کراچی میں جلسہ عام سے خطاب

منگل جنوری 18:54

کراچی(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔1جنوری۔ 2013ء) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ انقلاب ظلم سے نجات دلانے کے لیے ہے،افواج پاکستان سمیت تمام ادارے انقلاب میں رکاوٹ بننے کے بجائے اس کا ساتھ دیں،چودہ جنوری کو اسلام آباد میں پسے ہوئے عوام کا اجتماع ہوگا،انھوں نے ان خیالات کا اظہار ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر کے قریب واقع جناح گراؤنڈ میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کیا،اس موقع پر تحریک منہاج القران کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سمیت ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان، اراکین پارلیمنٹ سمیت دیگر اہم رہنماء بھی موجودتھے۔

الطا حسین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے ہاتھ بڑھایا ہم نے انھیں گلے لگا لیا ہے،قوم کو نئے سال اور ملک میں سفر انقلاب کی مبارکباد دیتا ہوں۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر طاہو القادری کی نائن زیرو آمد پر انھیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انھوں نے کارکنان سے کہا کہ وہ نعروں کی بجائے میر ی بات غور سے سنیں۔چودہ جنوری کو عوامی پارلیمنٹ میں فیصلہ ہوگا،انقلاب ظلم سے نجات دلانے کے لیے ہے،مجھ پر جناح پور بنانے کا الزام لگایا گیا، الطاف حسین نے کہا کہ فرسودہ گلے سڑے نظام کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں،ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ہمدردوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا،تاہم اب قائد اعظم اور علامہ اقبال کے شہروں سے انقلاب آرہا ہے،اب دنیا کی کوئی طاقت انقلاب کو آنے سے نہیں روک سکتی،ایم کیوایم نے پہلی بار عوامی نمائندوں کو اسمبلیوں میں بھیجا ،غریبوں نے بہت خون دیدیا اب لٹیروں کی قربانی دینے کا وقت آگیا ہے،اسمبلیوں کو کرپٹ لوگوں سے پاک کیا جائے گا،سفر انقلاب منزل پر پہنچ کر ختم ہوگا،تمام جماعتوں کو دعوت ہے کہ سفر انقلاب میں شامل ہوجائیں،پڑھے لکھے لوگ اسمبلیوں میں جاکرحق پرستی کا پیغام پہنچائیں ،دوجماعتوں کے ہاتھ ملانے سے امید کی کرن پیدا ہوئی،ملک بچانے کے لیے چودہ جنوری کو عوامی پرچم تلے جمع ہوجائیں،ڈاکٹر طاہر القادری کی شکل میں مجھے بڑا بھائی مل گیا ہے، انھوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کو فوری طور پر سیکیورٹی فراہم کرے،پنجاب میں پیغام حق پرستی کو روکنے کی سازش کی جارہی ہے،کیا الیکشن کمشنر لٹیروں کو نااہل قرار دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔

عوامی مارچ سے متعلق ہر فیصلہ ڈاکٹر طاہر القادری کرینگے۔اس سے پہلے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ 14جنوری کو اسلام آباد میں دنیا کا سب سے بڑا تحریر اسکوائر بننے جارہا ہے مگر یہ پرامن تحریر اسکوائر ہوگا، کوئی تشدد نہیں ہوگا، کوئی گولی نہیں چلے گی،مینار پاکستان سے شروع ہونے والے انقلاب کا کراچی سے آغاز ہورہا ہے۔

جناح گراؤنڈ عزیز آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ جبر اور بربریت کے خاتمے کیلئے ایم کیو ایم نے ہاتھ ملایا، ایم کیو ایم کی حمایت کا شکریہ ادا کرنے میں آج نائن زیرو آیا ہوں، الطاف حسین سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، پہلی بار نائن زیرو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ استحصالی نظام کے خاتمے، حقیقی جمہوریت کی بحالی کی دعوت تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو دی تھی، الطاف حسین اور ایم کیو ایم غریب عوام کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے، آج انقلاب کے عملی سفر کا آغاز ہوگیا ہے،انقلاب کا یہ سفر زیادہ دن نہیں لے گا، سفر انقلاب اپنی منزل پر پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے واضح کردیا کہ وہ صرف کراچی کی نہیں پورے پاکستان کی جماعت ہے، 14جنوری کو عوام کی پارلیمنٹ اپنا فیصلہ سنا دے گی۔انہوں نے کہا کہ بھوک و افلاس کی آگ میں کروڑوں افراد جل رہے ہیں، بیماردوا کو ترس رہے ہیں، 18کروڑ عوام سن لیں مظلوموں کیلئے آزادی کا علم بلند ہوگیا، ماوٴں کی گودیں دودھ نہ ملنے کی وجہ سے اپنے معصوم بچوں سے محروم ہوگئیں، میرا مشن قائد اعظم محمد علی جناح کی جمہوریت ہے، میرا مشن وہ ضابطہ ہے جسے آئین پاکستان نے ہمیں عمل پیرا ہونے کیلئے دیا۔

انہوں نے کہا کہ حلفیہ کہہ چکا ہوں کہ ہمارا کوئی خفیہ ایجنڈہ نہیں، کسی کے ایجنڈے پر یقین نہیں رکھتے، ہمارا ایجنڈہ حقیقی جمہوریت کے قیام اور جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کا ہے، کوئی کہتا ہے کہ 23دسمبر اور 14جنوری کی کال کسی ایجنڈے پر دی گئی، جب کوئی وزیر یا صدر نائن زیرو آئے تو انہیں نظر نہیں آتا، ہم لٹیروں سے جمہوریت چھیننا چاہتے ہیں اور غریبوں کے ہاتھوں میں اقتدار دینا چاہتے ہیں۔

طاہرالقادری نے کہا کہ ملک میں آئین پاکستان کی بحالی چاہتے ہیں، روٹی کپڑا مکان ہر انسان کا بنیادی حق ہے، کیا لوگوں کو مفت علاج بنیادی صحت کی سہولت مل رہی ہے؟، کیا کرپشن، رشوت سفارش کے بغیر نوکری مل رہی ہے؟، کیا بیٹیوں کی عزت و آبرو اور جان و مال کی حفاظت ہورہی ہے؟، کیا دہشت گردی کا خاتمہ ہوگیا ہے؟، کیا امن بحال ہوگیا ہے؟۔انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشی ترقی استحکام کیلئے حکومتیں بنتی ہیں، ہم اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھ کر اپنے حقوق نہیں مانگیں گے، اپنے حقوق آئین اور جمہوریت کی طاقت سے چھینیں گے، آج کراچی اور سندھ کے عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس بات کا ریفرنڈم ہوگیا ہے کہ قوم ظلم کے راج کو مسترد کرتی ہے، آئین کے ماروا کام کی بات کون کر رہا ہے، جمہوریت کو پٹری سے کون اتار رہا ہے، ہم لوٹ مار کے خلاف اٹھے ہیں۔