روٹ66سیاحوں کا عشق ‘چھوٹے چھوٹے قصبوں، گھاس کے میدانوں اور وسیع و عریض ریگستانوں سے گذرتی ہوئی، شکاگو سے لاس اینجلس تک جاتی تاریخی سٹرک کا80فیصد حصہ ابھی تک باقی ہے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ اپریل 11:57

روٹ66سیاحوں کا عشق ‘چھوٹے چھوٹے قصبوں، گھاس کے میدانوں اور وسیع و عریض ..

واشنگٹن(ا ردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔27اپریل۔2016ء) ایک زمانہ تھا جب امریکہ کے جنوب مغربی علاقے میں ایک سڑک ہوا کرتی تھی جو چھوٹے چھوٹے قصبوں، گھاس کے میدانوں اور وسیع و عریض ریگستانوں سے گذرتی ہوئی، شکاگو سے لاس اینجلس تک جاتی تھی۔ بیشتر مسافروں کے لیے مغرب میں کیلی فورنیا کے لیے ، روٹ 66 سے بہتر کوئی اور سڑک نہیں تھی۔

John Steinbeck نے اپنے ناول The Grapes of Wrath میں اس سڑک کو "مدر روڈ" کا نام دے کر اسے لافانی شہرت عطا کی۔ یہی وہ سڑک تھی جسے 1930ءکی دہائی کی عظیم کساد بازاری کے دوران، Joad گھرانے نے غربت کے چنگل سے فرار ہونے کے لیے استعمال کیا تھا۔روٹ 66 ایک بھولے بسرے مقام اور وقت کی یاد دلاتا ہے۔ وہ وقت جب 1950ءکی دہائی کے آخری برسوں تک، امریکہ میں شاہراہوں کا بین الریاستی نظام، یعنی انٹر اسٹیٹ ہائی وے سسٹم شروع نہیں ہوا تھا، جب سڑک پر لمبے سفر کا تجربہ اس آزمائش سے کہیں زیادہ تھا کہ ڈرائیور کتنے گھنٹوں تک 110 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے گاڑی دوڑاتے ہوئے ارد گرد کے مناظر کو برداشت کر سکتے تھے، اور پھر تھک ہار کر ا نہیں کھانے اور سونے کے لیے گاڑی روکنا پڑتی۔

(جاری ہے)

آج کی انٹرسٹیٹ شاہراہوں کے برعکس، جو ان مقامات کو چھوڑتی ہوئی گزرجاتی ہیں جہاں امریکی واقعی رہتے اور کام کرتے ہیں، روٹ 66 کار ڈرائیوروں کو امریکہ کے قلب میں لے جاتا تھا، جہاں سستے موٹلوں اور ان کے رنگ برنگی روشنیوں والے اشتہاروں، آبائی انڈین باشندوں کی دوکانوں، اورعجیب و غریب نام والے شراب خانوں اور ریستورانوں کی بھر مار ہوتی تھی۔

اس سفر کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ دور دراز سفر کرنے والے مسافر مقامی ثقافت سے لطف اٹھاتے تھے اور اس طرح مقامی ثقافت کا تعلق باہر کی دنیا سے قائم ہو جاتا تھا۔پرانے روٹ 66 میں دلچسپی بڑھی ہے، حتّیٰ کے امریکہ کے باہر ان لوگوں میں بھی، جن کے نزدیک سفر محض کسی منزل پر پہنچنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ بذاتِ خود ایک مقصد ہے۔ خوش قسمتی یہ ہے کہ پرانے روٹ 66 کا تقریباً 80 فیصد حصہ آج بھی موجود ہے، اور بہت سے لوگ اب یہ کوشش کر رہے ہیں کہ سڑک کے سفر کے اس مسحور کن حصے کو محفوظ کرلیں جو مسافر کو گھسے پٹے راستے سے دور لے جاتا ہے۔

ایسے لوگوں کو جنہیں "اصل امریکہ" کی تلاش ہے علاقائی لہجے، مزیدار مقامی کھانے، اور اپنے حالات پر خوش رہنے والے فیاض لوگ ا±نہیں یہ سب کچھ روٹ 66 پر مل جائے گا۔موٹر کار کے ذریعے شمالی امریکہ کے برِ اعظم کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا پہلا سفر 1903ءمیں مکمل ہوا تھا۔ یہ سفر ایک ایسے متمول فرد نے کیا تھا جس کے پاس موٹر کار خریدنے، اپنا مکینک اور اپنا ب±ل ڈاگ ساتھ لے جانے کے لیے پیسے تھے۔

یہ کوئی خوشگوار سفر نہیں تھا۔ریکارڈ کے مطابق کار سے کیلی فورنیا اور ورمونٹ کا درمیانی فاصلہ طے کرنے میں 63 دن لگے۔ لیکن اس میں یہ بات نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ کار کو گھوڑوں کی سواری کے کیچڑ بھرے راستوں کو کھود کر نکالنے، دریاﺅں کو پار کرنے، اور قصبوں میں خراب پرزوں کی جگہ ٹرین کے ذریعے نئے پرزوں کی آمد کے انتظار میں بہت سے دن صرف ہوئے۔

ایسا وقت آتے آتے جب زیادہ امریکی موٹر کار خرید سکتے تھے، روٹ 66 پکّی ہو چکی تھی اور مغرب کی جانب سفر کا راستہ زیادہ آسان ہو چکا تھا۔Christopher McCandless نے جو Into the Wild نامی کتاب اور فلم کے محرک ہیں، کہا ہے، اس بات سے انکار نہیں کیا جانا چاہیئے کہ آوارہ گردی سے ہمیشہ ہم میں جوش و جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کا تعلق ہمارے ذہنوں میں تاریخ اور ظلم و زیادتی اور قانون، اور بھاری بھرکم ذمہ داریوں سے فرار سے ہے۔

ہم مکمل آزادی کے رسیا ہیں۔ اور یہ سڑک ہمیں ہمیشہ مغرب کی طرف لے جاتی رہی ہے۔سفر پر چل نکلنے کا فعل بذاتِ خود بلوغت کی عمر اور خود شناسی کے مرحلے پر پہنچ جانے کی علامت ہے، اور اس کا انجانا عنصر یہ ہے کہ آپ کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ آپ کس سے ملیں گے، آپ کو کس قسم کے تجربات ہوں گے، اور آپ کیا کچھ دیکھیں گے۔ اس سفر کے ذریعے آج کے پیش رو کھلی سڑک پر پہنچ جاتے ہیں۔

ان میں سے بہت سے لوگ امریکہ محض اس لیے آتے ہیں کہ وہ اس راستے پر سفر کر سکیں جوکبھی مغرب کی جانب کیلی فورنیا نامی جنت تک پہنچنے کے لیے ایک بڑی گذر گاہ ہوا کرتی تھی۔اس روٹ کے بانی Cyrus Avery نے 1926ءمیں دیکھا کہ جب امریکہ کے مشرقی علاقوں میں رہنے والے لوگ سینٹ لوئس پہنچتے، جو مغرب کی طرف جانے والوں کے لیے تیاری اور سامان جمع کرنے کا روایتی مقام تھا، تو بحرالکاہل کے ساحل تک جانے والوں کے لیے بہترین طریقہ یہ تھا کہ وہ اس کے متعین کردہ جنوب مغربی راستے پر آگے بڑھیں اور کینساس، اوکلاہوما، ٹیکساس، ایریزونا، نیو میکسیکو اور نیواڈا کے چھوٹے چھوٹے قصبوں سے ہوتے ہوئے بالآخر کیلی فورنیا پہنچ جائیں۔

اس روٹ پر کاروبار جلد ہی چمک اٹھا۔ ریستوراں، پیٹرول پمپ، اور موٹل نئے خریداروں سے بھر گئے اور ان کے مالکان کے درمیان کاروبار کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے زبردست مقابلہ شروع ہو گیا۔آج موٹر کاروں کے ذریعے سفر کرنے والے لوگ وہ دشوار راستہ اختیار کر سکتے ہیں جس پر Joads نے سفر کیا تھا یا وہ فلم Easy Rider کا وہ آرام دہ راستہ اختیار کر سکتے ہیں، جس میں روٹ 66 کے ہنوز قابل استعمال حصے شامل ہیں۔

یہ لوگ آج بھی وہ موٹل، ریستوراں اور پٹرول پمپ دیکھ سکتے ہیں جنھوں نے ممکن ہے پرانے زمانے میں مسافروں کو خدمات فراہم کی ہوں۔مغرب کی طرف جانے والوں کے لیے اب روٹ 66 عمدہ ترین راستہ نہیں ہے، لیکن اس کے ذریعے آپ پرانے زمانے کی جھلکیاں دیکھ سکتے ہیں، جب سفر کا مقصد تلاش و جستجو تھا، صرف یہ نہیں کہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا جائے۔