پنجاب اسمبلی نے سکھوں کی شادیوں کی قانونی حیثیت سے متعلق مسودہ قانون متفقہ طور پر منظور کر لیا

بل کی منظوری کے بعد پاکستان دنیا میں سکھوں کی شادیاں رجسٹرڈ کرنے والا پہلا ملک بن گیا

بدھ مارچ 14:32

پنجاب اسمبلی نے سکھوں کی شادیوں کی قانونی حیثیت سے متعلق مسودہ قانون ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مارچ2018ء) پنجاب اسمبلی نے سکھوں کی شادیوں کی قانونی حیثیت سے متعلق مسودہ قانون متفقہ طور پر منظور کر لیا ،بل کی منظوری کے بعد پاکستان دنیا میں سکھوں کی شادیاں رجسٹرڈ کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی نے حکمران جماعت کے اقلیتی رکن رمیش سنگھ اروڑا کی جانب سے سکھ برادی کی شادیوں کی رجسٹریشن کے آنند کراج بل کی متفقہ طور پرمنظوری دیدی ۔

موجودہ حکومت کے پانچ پارلیمانی سالوں میں منظور ہونے والا پہلا پرائیویٹ ممبر بل ہے ۔

(جاری ہے)

بھارت میں بھی سکھوں کے لیے علیحدہ سے کوئی میرج ایکٹ نہیں اورپنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد پاکستان دنیا میں سکھوں کی شادیاں رجسٹرڈ کرنیوالا پہلا ملک بن گیا ہے ۔بھارت میں سکھوں کی شادیاں ہندو میرج ایکٹ کے تحت رجسٹرڈکی جاتی ہیں۔ بل کے متن کے مطابق 18 سال سے کم عمر سکھ لڑکے یا لڑکی کی شادی رجسٹرڈ نہیں ہوگی۔باپ کی نسل میں سکھوںکی شادی نہیں ہو سکے گی،شادی کے لیے چار پھیرے ضروری ہو ں گے،شادی کی رجسٹریشن کا سرٹیفکیٹ جاری ہو گا،شادی کیلئے گورو گرنت (مذہبی )کتاب ضروری ہوگی۔حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی جانب سے ڈیسک بجا کر سکھ کمیونٹی کو بل کی منظوری پر مبارکبادی دی گئی۔