سعودی عرب میں گھروں میں محدود خواتین کے لیے فوڈ کارونگ

پیر اپریل 11:43

سعودی عرب میں گھروں میں محدود خواتین کے لیے فوڈ کارونگ
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء نمائندہ خصوصی خرّم خان،ریاض،سعودیہ) سعودى عرب ميں موجود غير ملکى فيمليز کو اکثر اپنى اولاد کى تربيت کے متعلق پريشانى لگى رہتى ہے. بلخصوص لڑکيوں کو سعودى عرب ميں محدود سوشل سرکل کى وجہ سے گھر گھرستى, بناؤ سنگہار اور کھانا پکانا وغيره سکھانا ہر والده کے ليے کسى دردِ سر سے کم نہيں. ايسے ميں سعودى عرب کے شہر الھفوف ميں موجود ايک خاتون فوڈ کارونگ انسٹرکٹر نے اپنے ہنر سے خواتين اور بچيوں کو مستفيد کرنے کا عہد کيا. پہلے پہل تو انہوں نے مفت ميں اپنے اڑوس پڑوس اور جان پہچان کى بچيوں کو *فوڈ کارونگ* يعنى پھلوں اور سلاد کو خوبصورت اور دلفريب انداز ميں کاٹ کر دسترخوان کى زينت بنانا سکھانا شروع کيا. مگر پھر دور دراز سے خواتين کى بڑھتى ہوئى دلچسپى کے مدِ نظر انہوں نے اس مقصد کے ليے فوڈ کارونگ کى آن لائن کلاسز دينى بھى شروع کر دى. یہ ان کی طرف سے تمام دیار غیر میں مقیم خواتین کے لیے سبق بھی ہے کے وہ پاکستان سے دور رہ کر بھی اپنے ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں ۔

(جاری ہے)

انکا نام مريم ثناء (امِ ريان) ہے. اور یہ آن لائين بہترين فوڈ کارونگ بھی سکھاتی ہیں ۔ ان جیسی خواتین ملک پاکستان کا فخر ہوتی ہے ۔ اور ان سے دوسروں کے لیے ایک۔ سبق بھی ہے ۔ انہوں نے آن لائن تربیتی کلاسز بھی سٹارٹ کی ہوئی ہے اس کا طریقہ کار انتہائی آسان اور سادہ ہے. خواتین صرف ایک بار توجہ سے اس کی کلاسز کو یقینی بنائیں تو کچھ ہى دنوں میں فوڈ کارونگ میں عبور حاصل کر سکتى ہيں. ہم کو ان جیسی خواتین کے کام کی تعریف کرنا چاہے اور انکو سپورٹ کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہے ۔ تا کے پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو اجاگر کیا جائے ۔‎

متعلقہ عنوان :