مقبوضہ کشمیرکے ضلع کٹھوعہ میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی کم سن بچی آصفہ کا کیس لڑنے والی خاتون وکیل کودھمکیاں، مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا یا قتل کیا جاسکتا ہے، دیپکا ایس راوت

پیر اپریل 15:37

جموں ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں ضلع کٹھوعہ میں کم سن آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کیس میں متاثرہ خاندان کی وکیل دیپکا ایس راوت نے کہا ہے کہ متاثرہ لڑکی کو انصاف کی فراہمی کے لیے کھڑے ہونے پر انہیںزیادتی کا نشانہ بنایا یا قتل کیا جاسکتا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق دپیکا ایس راوت نے جموں میں صحافیوں کو بتایا کہ مجھے نہیں پتاکہ میں کب تک زندہ رہوں گی۔

مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے، بے عزت یا قتل کیا جاسکتا ہے یا نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ مجھے گزشتہ روز دھمکیاں دی گئیں کہ ہم آپ کو معاف نہیں کریں گے ۔ انہو ںنے کہاکہ میں سپریم کورٹ کو بتانے جارہی ہوں کہ میری زندگی خطرے میں ہے۔ واضح رہے کم آصفہ کو 10جنوری کو اغوا کیا گیاتھا جس کے بعد اسے خالی پیٹ نشیلی دوائیاں دی گئیں، بار بار اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں قتل کیا گیا۔ اس گھنائونے جرم کا مقصدعلاقے سے خانہ بدوش مسلمانوں کو نقل مکانی پر مجبورکرنا تھا۔ ریٹائرڈ سرکاری افسروں پر مشتمل 49افراد کے ایک گروپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام لکھے گئے کھلے خط میں انہیں اس خوفناک صورتحال کے لیے ذمہ دار قراردیا ہے۔

متعلقہ عنوان :