صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے آٹھ سالہ عاصمہ بانو سے اجتماعی زیادتی اورسفاکانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت

پیر اپریل 20:08

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے آٹھ سالہ عاصمہ بانو سے اجتماعی زیادتی اورسفاکانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک دانستہ جرم ہے جو ہندو جنونیوں نے تقریباً دس لاکھ گجر اور بکروال خاندانوں کو سزا دینے کے لئے سر زد کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر آزاد جموں نے آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی کے زیر اہتمام زبانوں کے حوالے منعقدہ تیسری بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدر نے کہا کہ اس سنگین جرم کے مرتکب تمام افراد کو قانون اور انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے اور بین الاقوامی برادری کو متاثرہ خاندان اور متاثرہ برادری کی داد رسی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کا ایسا ماحول ہندوستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں استوار کیا جا رہا ہے کہ کشمیریوں کے حقوق کو بے دردی کے ساتھ کچلا جائے۔

(جاری ہے)

صدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ہے اور وہاں ہندوستانی مشینری لوگوں کی آزادی کے لئے اٹھائی جانے والی آواز کو خاموش کرنے کے لئے جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے اورجنسی تشدد کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

صدر آزاد جموں وکشمیر نے کہا اگرچہ جموں وکشمیر میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن اپنی تاریخ اور جغرافیائی حیثیت کے بدولت جموں وکشمیر ایک اکائی ہے اور اسے زبان ، مذہب اور کلچر کے بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ صدر نے کہا کہ جموں وکشمیر کے قضیے کا ایک پر امن اور سفارتی حل جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو ناگزیر ہے۔ اس سے ہمیں اس خطے میں باہمی ربط اور اشتراک بحال ہونے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام کشمیری متحد ہیں اور اپنے سیاسی مستقبل کے لئے بر سر پیکار ہیں۔ صدر نے آزادجموں وکشمیر یونیورسٹی کی طرف سے کوالٹی آف ایجوکیشن کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے موثر اقدامات کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ بالخصوص اس طرح کی بین الاقوامی کانفرنسز کا انعقاد کر کے جس میں امریکہ ، برطانیہ، پولینڈ ، جاپان ، فرانس اور مقبوضہ کشمیر کے مندوبین نے شرکت کی۔

اس سے مظفرآباد ایک بین الاقوامی ادبی اور دانشورانہ سرگرمیوں کا مرکز بن رہا ہے۔ آزادجموں وکشمیر یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی اور انسٹیٹیوٹ آف لینگویجز کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس طرح کی کانفرنسز سے مختلف زبانوں ، ان کی تاریخ ، ان کی جزویات ، ان کی ساخت ، ان کی تلفظات وغیرہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ یہ کانفرنس نہ صرف قومی اور مقامی زبانوں کو فروغ دے گی بلکہ بین الاقوامی اور قومی مندوبین کے درمیان ربط اور باہمی اشتراک کے فروغ کے لئے ممدومعاون ثابت ہوگی۔

صدر نے کہا کہ جموں وکشمیر زبان وبیان کے اعتبار سے ایک زرخیز خطہ ہے جو انڈو یورپین اور سائنوتبتیئن زبانوں کے اعتبار سے دو خاندانوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں بولی جانے والی زبانوں میں اردو ، کشمیری ، پہاڑی ، گوجری، ڈوگری، شینہ، بلتی، تبتیئن ، لداخی اور گوروشاسکی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ زبانیںکسی خطے کی تہذیب اور کلچر کی عکاسی کرتی ہیں۔

صدر نے کہا کہ تلفظات کی تبدیلی سے زبان اپنی اصل ساخت اور زندگی کھو بیٹھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی زبان کا خاتمہ ایک تہذیب کا خاتمہ ہوتا ہے۔ انہوںنے زور دیا کہ جس طرح مختلف زبانوں کی توسیع ہو رہی ہے ہمیں ان زبانوں کو برقرار رکھنے اور ان کی بقاء کے لئے سنجیدہ کاوشیں کرنی ہونگی۔ صدر نے کہا کہ موجودہ انٹرنیٹ اور سابئر سپیس ٹیکنالوجی کی بدولت بہت ساری اور مختلف زبانوں کے لئے جگہ اور گنجائش موجود ہے جو مقامی زبانوں اور ثقافت کے لئے بھی نیک شگون ہے۔

صدر نے کہا کہ ہمیںان سب سے بڑھ کر امن بھائی چارے یگانگت کی زبان کی تلاش میں بھی نکلنا ہوگا اور تنازعات ، اسلحہ اور ایمونیشن کی زبان سے اجتناب کرنا ہوگا۔ صدر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں پر روا رکھے جانے والے تشدد سے کبھی نہیں نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مذاکرات اور ڈپلومیسی کا راستہ اپنانا پڑے گا۔ اس کانفرنس میں مختلف سکالرز ، ادبی شخصیات ، محققین اور کثیر تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔

متعلقہ عنوان :