اعلیٰ تعلیمی ادارں کے اساتذہ اساتذہ کے نام پر ایک مخصوص گروہ کی احتجاجی کال کو مسترد کردیا

پیر اپریل 21:18

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) اعلیٰ تعلیمی ادارں کے اساتذہ نے ہائرایجوکیشن کمیشن کے نئے چیئرمین کی شفاف تعیناتی اور سابق چیئرمین کے خلاف ملک بھر کے اساتذہ کے نام پر ایک مخصوص گروہ کی جانب سے بلائی گئی احتجاجی کال کو مسترد کردیاہے،دس تنظیموں کے نام پر بلائے گئے احتجاجی مظاہرے میں سات طلبہ سمیت کل پندرہ افراد نے شرکت کی اور چھ نکاتی چارٹر پیش کیاجس میں ا یچ ای سی، قائد اعظم یونیورسٹی، اسلامی یونیورسٹی،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی،نیشنل کالج آف آرٹس و دیگر اداروں کے سربراہان کی شفاف تعیناتی کامطالبہ شامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اصلاحات کے نام پر بنائے گئے مبینہ طور پر نام نہاد اور غیر معروف ورکنگ گروپ کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کی کال دی گئی تھی جبکہ اس میں فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسو سی ایشن، یوتھ کونسل آف پاکستان و سول سوسائٹی کی معاونت بھی شامل تھی اس احتجاجی مظاہرے میں وفاقی ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے نکالے گئے بگوڑے بھی شامل تھے جنہوں نے پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قیام سے لیکر اب تک وفاقی ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور پنجاب ایچ ای سی کے درمیان اختلاف پیدا کرکے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں مبینہ رکاوٹیں ڈالتے ہوئے اپنا منفی کردار ادا کیا اور وفاقی ایچ ای سی نکالے جانے کے بعد سے لیکر اب تک مسلسل وفاقی ایچ ای سی کے مثبت اقداما ت، اعلیٰ تعلیم کے فروغ، یونیورسٹیوں کی بہتری کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سبو تاژ کرنے کیلئے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تنظیموں کو استعمال کرتے ہوئے منفی رنگ دینا معمول بنائے رکھا۔

(جاری ہے)

حیرت انگیز اور پریشان کن بات یہ ہے کہ ان بگوڑوں کے ہاتھوں اساتذہ کی ملک گیر تنظیمیں بھی کھیل رہی ہیں اور اپنی سوچ اور بصیرت کا استعمال کرنے کے بجائے ان بگوڑوں کی جعلی معلومات پر انحصار اور بھروسہ کرکے اعلیٰ تعلیمی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے عملی اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بننے کی ناکام کوششیں کرتے ہیں جس سے اساتذہ کمیونٹی بھی ان کے خلاف سراپا احتجاج رہتی ہے اساتذہ کمیونٹی کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تنظیمیں ایک ایسے شخص کے پیچھے چل رہی ہیں جس کو وفاقی ایچ ای سی سے نکالے جانے سے پہلے سب کچھ ٹھیک تھا اور جب اسے نکال دیا گیا تو اس ادارے میں سب کچھ غلط ہونے لگا۔

ملک بھر کے اساتذہ کے نام پر بلائی گئی احتجاجی کال کو اساتذہ نے مکمل مسترد کر دیا تاہم پریس کلب کے سامنے احتجاج جس میں بامشکل پندرہ سے زیادہ لوگ شریک نہیں تھے اپنے آپ سے خطاب کرنے کے سوائ کچھ نہیں تھا تاہم اپنی عزت بچانے اور کسی کی ایمائ پر کیے جانے والے اس احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ 2018کا سال اعلیٰ تعلیمی شعبہ میں اہم تعیناتیوں کے حوالے سے نہات اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی سال ایچ ای سی چیئرمین سمیت قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد،علامہ اقبال اوپن یونورسٹی،نیشنل کالج آف آرٹس ودیگر اہم تعلیمی اداروں کے سربراہان کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔

ماضی کی غلطیوں،تنقید، اور خامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے تعیناتیوں کا عمل شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہئے،اس موقع پر 10سے زائد تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ 6نکاتی چارٹر میں مطالبہ کیا گیاہے کہ اعلیٰ تعلیمی شعبہ میں تمام تقرریاں سپریم کورٹ کے احکامات اور مجوزہ کوائف کو مد نظر رکھ کر کی جائیں۔ ایسے امید واروں سے اجتناب کیا جائے جن کی انکوائریاں اور کیس نیب یا مختلف عدالتوں میں زیرسماعت ہوں، جبکہ مدت ملازمت میں توسیع کی حوصلہ شکنی کی جائے،تعیناتی کے عمل کے دوران متعلقہ منسٹری کے افسران کی مداخلت بند کی جائے،اہم تعیناتیوں کے امید واروں کے ماضی کی کار کردگی کا جائزہ لینے کے لئے تھرڈ پارٹی اکیڈمک آڈٹ کروایا جائے اور اس کو تعیناتی کے عمل کا لازمی جزو قرار دیا جائے۔

واضح رہے مذکورہ مظاہرے کے منتظمین کی جانب سے میڈیا کو جاری کردہ تصویر میں محض پندرہ کے قریب افراد احتجاج کرتے دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ ان میں بھی ایک طلبہ تنظیم کے چھ سے سات طلبائ شامل ہیں۔