سکھر، بہتر شرح ِ نمو کا حصول ،تجارتی خسارے پر قابو پانا وقت کا تقاضہ اور بہتر مستقبل کا ضامن ہے، صدر ایوان صنعت و تجارت

پیر اپریل 23:05

سکھر۔16اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) ایوان صنعت و تجارت سکھر کے صدر انجینئر عبدالفتاح شیخ کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی برائے بینکنگ و فنانس کے اجلاس میں پاکستان کی اقتصادی صورتحال اور آئندہ بجٹ پر غور و خوض کیا گیا۔ جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق صدرِ ایوان نے ورلڈ بینک کی رپورٹ میں بیان کی گئی پاکستان کی شرحِ نمو برائے رواں مالی سال 5.8% حاصل ہونے کو اطمینان بخش قرار دیا جبکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بڑھتے ہوئے اقتصادی عدم توازن اور کرنٹ اکائونٹ ڈیفیسٹ میں مسلسل اضافہ کو تشویشناک اور ملکی معیشت کیلئے نہایت منفی قرار دیا۔

چیئرمین کمیٹی محمد رفیق ڈوسانی نے ورلڈ بینک کی رپورٹ اور پاکستان کے تجارتی عدم توازن پر اعدادو شمار سے اراکین کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سی پیک کے تحت قائم ہونے والے پراجیکٹس کرنٹ اکائونٹ ڈیفیسٹ کا بڑا سبب ہیں۔

(جاری ہے)

صدرِ ایوان نے ملک میں جاری سی پیک پراجیکٹس کے ساتھ ساتھ درآمدات و برآمدات میں بڑہتی ہوئی خلیج پر کارپردازانِ حکومت خصوصاً وزارتِ تجارت و وزارتِ خزانہ کی توجہ مبذول کراتے ہوئے صورتحال کو حساس قرار دیا جو فوری توجہ کا متقاضی اور سنجیدہ اقدامات اختیار کرنے کی ضرورت کا احساس دلاتا ہے۔

اُنہوں نے سامانِ تعیش کی درآمد پر قدغن لگانے کا مطالبہ کیاجبکہ خام مال کی درآمدات پر ٹیکسوں میں چھوٹ اور تیار شدہ مال کی برآمدات میں مزید اضافہ ضروری قرار دیا تاکہ پاکستان کا تجارتی توازن پاکستان کے حق میں مبذول کرکے ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال مثبت بنائی جا سکے۔