تحریک حریت کی طرف سے پارٹی رہنماء کی بلا جواز گرفتاری کی شدید مذمت

بھارتی پولیس سانسوں پر پہرہ بٹھا کر مصنوعی امن قائم کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے‘ ترجمان تحریک حریت

منگل اپریل 15:46

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں تحریک حریت جموں و کشمیر نے پارٹی کے رہنماء فاروق احمد شاہ کی بلاجواز گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بھارتی پولیس کی بوکھلاہٹ قراردیاہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحریک حریت کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ جموں و کشمیر کو عملاً فوجی اور پولیس اسٹیٹ بنادیا گیا ہے اور جو کوئی بھارتی فورسز کے ظلم وجبر، تشدد اور قتل وغارت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے یا فورسز کے ہاتھوںشہید ہونیوالے کشمیریوںکے جنازوں میں شرکت کرتا ہے انہیں گرفتار کرلیاجاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پولیس سانسوں پر پہرہ بٹھا کر مصنوعی امن قائم کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے اورپر امن سیاسی سرگرمیوں پر جبری قدغنیں عائد کر دی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ فاروق احمد شاہ نے کھڈونی کولگام میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونیوالے نوجوانوںکے جنازوں میں شرکت کی اور پولیس نے اس جرم کی بنیاد پرانہیں گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیاہے۔

ترجمان نے کہاکہ پولیس ان کارروائیوں سے آزادی کے متوالوں کو خوفزدہ نہیں کرسکتی۔انہوں نے پولیس کی اس کارروائی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے تمام نظربندکشمیریوںکی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ادھر تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی کی ہدایت پر محمد رفیق اویسی کی قیادت میںایک وفد نے شہید عامر حسین لون کے گھر چھترگل کنگن جاکر اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کااظہار کیا۔

انہوں نے شہید نوجوان کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کے ساتھ کسی کو کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور شہداء کے مشن کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیاجائیگا۔ انہوں نے شہید کے اہل خانہ تک اشرف صحرائی کا تعزیتی پیغام پہنچایا۔ وفد میں طالب حسین، جان محمد، عبدالاحد، عامر احمد، شوکت حسین اور شمیم احمد شامل تھے۔

متعلقہ عنوان :