نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی کا معاملہ ، سپریم کورٹ نے از خود نوٹس نمٹا دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل اپریل 15:45

نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی کا معاملہ ، سپریم کورٹ نے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 اپریل 2018ء) : سپریم کورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے متعلق از خود نوٹس نمٹا دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بتائیں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں پابندی کہاں ہے؟ خبر لگی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے تقاریر پر پابندی عائد کر دی۔

جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ ہر کوئی فیصلے پر الگ رائے دے رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ماشاءاللہ ہر اخبار میں خبریں لگی ہیں۔ پیمرا کے چئیرمین کدھر ہیں؟ پیمرا کے قائم مقام چئییرمین کے عدالت میں پیش ہونے پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ پڑھنے کو کہا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہائیکورٹ نے عدلیہ اور ججز کے خلاف تقاریر پیمرا کو روکنے کا حکم جاری کیا۔

(جاری ہے)

  جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 19 پر عملداری نہیں ہونی چاہئیے؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پیمرا نے آج تک آرٹیکل 19 کے تحت کیا کیا ہے؟ عدالت نے آرٹیکل 19 اور 68 کے تحت پیمرا کو کام کرنے کا حکم جاری کیا۔ پیمرا عرصے سے معاملات کو طول دے رہا ہے۔  چئیرمین پیمرا نےعدالت کو بتایا کہ خلاف ورزیوں پر چینلز کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ اگر نوٹس ہی کرنے ہیں تو ضرورت کیاہے؟ پیمرا نے اب تک کیا ایکشن لیا ہے؟کیا پیمرا کے پاس اختیار نہیں ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ پیمرا نے ان شکایات کا کیا نوٹس لیا ہے؟ پیمرا کے پاس 2017ء سے شکایات ہیں۔ پیمرا ایک ریگولیٹر ہے۔  جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ کیاپیمرا کو کوئی آ کربتائے گا کہ اپنا کام کریں؟  عدالت نے حکم کچھ اور جاری کیا رپورٹنگ کچھ اور ہوتی رہی۔

کسی نے منظم طریقے سے یہ سب کچھ کیا ہے؟ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہاکہ اٹارنی جنرل آپ کیا چاہتے ہیں کہ نفرت آمیز تقاریر شروع ہو جائیں؟صحتمندانہ تقریر اور تنقید سے کبھی نہیں روکا ۔ جسٹس عظمت نے ریمارکس دئے کہ پیمرا یتیم خانہ لگتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پیمرا مکمل طور پر بے بس نظر آتا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جعلی خبروں پر پیمرا نے کسی ٹی وی چینل کو نوٹس جاری کیا؟ جس پر قائم مقام چئیرمین پیمرا نے کہاکہ پیمرا نے غلط خبر پر ایکشن لے لیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ خبر کو ٹوئسٹ کر کے چلایا گیا پیمرا نے کیا ایکشن لیا؟ قائم مقام چئیرمین پیمرا نے کہا کہ چینل کو فوری نوٹس جاری کریں گے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم میں نواز شریف اور مریم نوازپر پابندی کا کہیں نہیں لکھا۔ کون اس معاملے کی تحقیقات کرے گا؟ کس نے یہ خبر میڈیا کو بنا کر دی؟  تسلیم نہیں کر سکتا کہ عدالت کے رپورٹر یہ غلط خبر دے سکتے ہیں۔

کس نے اصل خبر کو تبدیل کروایا؟ پیمرا کی طرف سے وہ وکیل پیش ہوا جو نواز شریف کا وکیل ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ آپ کو نوٹس جاری کریں گے۔ آج آپ کا لائسنس معطل کرتے ہیں۔ آپکس طرح پیمرا کی طرف سے پیش ہوئے؟ کیا آپ کا پیمرا کی طرف سے پیش ہونا مفادات کا ٹکرائو نہیں؟ ن لیگ کی طرف سے بھی آپ پیش ہوئے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں پیمرا کی طرف سے کافی عرصہ سے پیش ہو رہا ہوں۔ عدالت سے معافی چاہتا ہوں اور اپنا وکالت نامہ واپس لے لیتا ہوں۔