سی پیک سے پیداہونے ثقافتی تبدیلی اور مقامی آبادی کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے موثر قانون سازی کی ضرورت ہے،سپیکربلوچستان اسمبلی

روزگار کے مواقوں پر توجہ نہ دی تو نوجوان منصوبے سے مایوس ہو جائیں گے ،راحیلہ حمید خان درانی

منگل اپریل 16:30

وئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی نے کہا ہے سی پیک حساس منصوبہ ہے ہمیں اسکے مختلف پہلوئوں سے فائدہ حاصل کر نے لئے صوبائی اور قومی سطح پر ہم آہنگی پیدا کر نے کی ضرورت ہے ،،سی پیک سے پیداہونے ثقافتی تبدیلی اور مقامی آبادی کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے موثر قانون سازی کی ضرورت ہے،وفاق کو یہ واضح کرنے کی ضرورت کہ بلوچستان کو سی پیک سے کیا فوائد ملیں گے ،صوبے کو بھی منصوبے سے فائدہ حاصل کر نے کے لئے تیاری کر نے کی ضرورت ہے ،یہ بات انہوں نے منگل کو بیوٹمز میں سینٹر آف ایکسیلینس برائے سی پیک کے زیر اہتمام چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے بلوچستان میں پیدا ہونے والے صنعتی اور شہری آبادی کے مواقعوں کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی،اس موقع پر بلوچستا ن اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال، وائس چانسلر بیوٹمز احمد فارق بازئی،سینٹر آف ایکسیلینس برائے سی پیک کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر شاہد رشید،کمشنر کوئٹہ ڈویژن جاوید احمدشاہوانی،سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات اسفند یارکاکڑ،اقتصادی یونٹ پنجاب کے خرم افضل ، گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئر مین منیر جان ،ڈاکڑ سلیم جنجوعہ ،مزمل ضیاء،عدنان خان،احمد عزیز تارڑ سمیت دیگر بھی مو جود تھے ،اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ سی پیک منصوبے پر اسمبلی میں بات چیت ہوئی ہے آج پہلی بار بلوچستان میں ایسی کانفرنس دیکھی ہے کہ جس سے ہمیں اس منصوبے کے حوالے سے پتا چلے گاہر پاکستانی اور بلوچستا نی چاہتاہے کہ سی پیک کامیاب ہو یہ منصوبے نہ صرف پاکستان بلکے خطے کے لئے بھی گیم چینجر ہے ہم ایک منصوبے میں داخل ہوگئے ہیں جس پر دنیا کی نظریں ہیں ہمیں اپنی ذہانت سے اسے تکمیل تک پہنچا نا ہے،انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے آنے والی تبدیلی کے نتیجے میں شہریوں کے قانونی حقوق کاتحفظ بہت اہم مسئلہ ہے گوادر کے مقامی لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہم نے کیا اقدامات کئے ہیں پوری دنیا میں منصوبوں پر کام ہوتا ہے اور وہاں کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ،کیونکہ اب ہمارے پاس قانون سازی کے لئے وقت کم ہے لیکن ہم سب کی ذمہ داری کہ ہم مقامی آبادی کا تحفظ کریں یہ نہ ہوکہ پوری دنیا یہاں آجائے اور جس ترقی کے ہم خواب دیکھ رہے ہیں اس سے ہماری آبادی کو کوئی فائدہ نہیں ہو،ہمیں سعودی عرب،دبئی جیسے شہریت،حق رائے دہی، جائیداد خریدنے کے قوانین بنا نے کی ضرورت ہے وفاق ہمارے ان خدشات پر ضرور بات کرے ،انہوں نے کہا کہ ہم نے سی پیک کے حوالے سے تیاری نہیں کی اس منصوبے کے آنے سے ہمیں مختلف صوبائی ،قومی اور عالمی چیلجز کا سامنا ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ سی پیک ہر گلی سے ہو کر گزرے اس کے لئے ہمیں اتفاق اور مفاہمت پید ا کر نے کی ضرور ت ہے کچھ دن پہلے چین میں سی پیک پرسیمینار میں گئی انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی سطح پر یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہماری ترجیحات کیا ہیں سی پیک حساس منصوبہ ہے ہمیں اسکی حساسیت سمجھنے کی ضرورت ہے اس پر ہر بندہ اپنی رائے دے رہا ہے وہ کہتا ہے کہ اسکی منشا اور رائے کے مطابق منصوبہ مکمل ہونا چاہیے منصوبے ایسے مکمل نہیں ہوتے یقینا تمام سٹیک ہولڈرز ملکر منصوبوں پر حکمت عملی بنا تے ہیں اور ایک قومی یگانگت کے تحت آگے بڑھتے ہیں تما م صوبوں کو یکجا ہوکر اس پر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ کانفرنس سے ہمیں موقع ملا ہے کہ اس وقت پنجاب کی حکومت کیا کر چکی ہے اور ہم انکے تجربے سے کیا کیا سیکھ سکتے ہیں اور پنجاب کے لوگوں کو بھی پتا لگے کہ بلوچستان کے لوگ سی پیک سے کیا توقعات رکھتے ہیں ،،سی پیک طویل منصوبہ ہے اس کے بہت سے مراحل ہیں گوادر پورٹ پر ہمیں کس قسم کی افرادی قوت کی ضرورت ہے اور کیا ہم نے اس سمت میں کام کرنا شروع کیا ہے یا نہیں ،کیا ہم نے ٹریننگ پیکج اور ادارے بنائے ہیں اور ہمیں کتنے اور ادارے بنا نے کی ضرورت ہے،سپیکر نے مزید کہا کہ سی پیک سے آنے والے ثقافتی تبدیلی بہت بڑا چیلج ہے کیا ہم نے اس پر قانون سازی کی ہے یا نہیں ہے ،معلوم نہیں سی پیک کے لئے کتنی مدت مختص کی گئی ہے چینی زبان بھی ہمارے لئے بہت بڑی رکاوٹ ہے جب چین گئی تو دیکھا کہ وہ ہماری زبان بہت اچھی طرح بول سکتے ہیں لیکن ہمیں انکی زبان کے بارے میںکچھ نہیں پتا انہوں نے شہباز شریف کو داد دی کی کہ انہوں نے پنجاب اور بلوچستان کے طلباء کو چینی زبان سیکھنے بھیجا ،ایک موقع پر انہوں صدر ممککت ممنو ن حسین کا بھی شکر یہ ادا کیا کہ انہوں نے ایوان صدر کے اخراجات کم کر کے گوادر میں نمل یو نیورسٹی بنائی جو کہ احسن اقدام ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی بجٹ میں سی پیک کے لئے وفاقی سے بات کرنے اور معلومات لینے کی ضرورت ہے کہ بلوچستان کو اس منصوبے سے کس حد تک جانا چاہیے،چین کاکام ہمیں منصوبے میں معاونت دینا تھا اب ہمارا کام ہے کہ ہمیں کس طرح منصوبے کو آگے بڑھائیں گے ،اگر ہم نے زوزگار کے مواقوں پر توجہ نہیں دی تو نوجوان جو منصوبے سے بہت سی توقعات رکھتے ہیں مایوس ہو جائیں گے اس کے لئے بھی غور و غوض کر نے کی ضرورت ہے کہ ہم کتنے لوگوں کو روزگار فراہم کر سکیں گے انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے سب سے اہم چیز معلومات ہیں کیونکہ اس سے ہمیں معلوم ہوگا کہ کس حدتک کام کیا ہے اورآگے کیا کرنا ہے چاہ بہار بن کر شروع ہوگیا ہے اس پر کوئی مسئلہ نہیں ہوا ذہین قومیں ہمیشہ مثبت خدشات پر کام کر تی ہیں امید ہے کہ ہم بھی اس پر عمل کریں گے

متعلقہ عنوان :