سٹی کورٹ میں جاری سرکاری وکلا کی ہڑتال نے طول پکڑ لیا

سرکاری وکلا اور پراسکیوشن کے عملے کی صوبائی وزیر سعید غنی کو گھیرے میں لے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری وکلا کے خلاف ضلع جنوبی کے دو تھانوں میں درج مقدمات ختم کردیئے

منگل اپریل 16:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) سٹی کورٹ میں جاری سرکاری وکلا کی ہڑتال نے طول پکڑ لیا۔سرکاری وکلا اور پراسکیوشن کے عملے نے سٹی کورٹ میں پیشی پر آئے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی کو گھیرے میں لے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری وکلا کے خلاف ضلع جنوبی کے دو تھانوں میں درج مقدمات ختم کردیئے۔

تفصیلات کے مطابق سٹی کورٹ میں سرکاری وکلا کی اور ماتحت عملے کی جانب سے جاری ہڑتال نے طول پکڑ لی۔سرکاری وکلا اور ماتحت عملے نے 9 ویں روز بھی سٹی کورٹ میں تمام کام بند رکھا۔سرکاری وکلا اور پراسکیوشن کاعملہ ٹولیوں کی شکل میں سٹی کورٹ میں گشت کرتے رہے۔سرکاری وکلا اور ماتحت عملے نے سٹی کورٹ میں پیشی پر آئے ہوئے پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیر سعید غنی کو گھیرے میں لے کر احتجاج بھی کیا۔

(جاری ہے)

سرکاری وکلا نے اس موقع پر حکومت سندھ کے خلاف خوب نعرے بازی بھی جبکہ وکلا کے نمائندوں نے صوبائی وزیر کو گزشتہ روز اسمبلی کے باہر پولیس کی جانب سے مظاہرین کے ساتھ کئے جانے والے سلوک سے بھی آگاہ کیا۔۔دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری وکلا کے خلاف سندھ اسمبلی کا گھیراو کرنے پر پولیس کی جانب سے دائر دونوں مقدمات کو ختم کرتے ہوئے نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا۔

واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے گزشتہ روز سندھ اسمبلی کا گھیراو کرنے پر سرکاری وکلا کے خلاف تھانہ آرام باغ میں مقدمہ درج کرتے ہوئے 47 وکلا کو گرفتار کیا تھا جنہیں رات گئے 10 ہزار روپے فی کس کے مچلکوں پر رہا کیاگیاتھا۔۔پولیس نے سرکاری وکلا کے خلاف تھانہ کلاکوٹ میں دوسرا مقدمہ درج کرتے ہوئے 21 وکلا کو گرفتار کیا تھا۔

متعلقہ عنوان :