امیرِ قطر کی عرب سربراہ اجلاس میں عدم شرکت انکے اکھڑپن کی مظہر ہے، انور قرقاش

ظہران اجلاس میں فلسطینی نصب العین کی حمایت کا ا عادہ ،عرب قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے حکمتِ عملیوں کی حمایت پر زور ، قطر اپنے رویے سے مسلسل دیوار سے لگ رہا ہے، وزیر مملکت برائے امور خارجہ یو اے ای

منگل اپریل 18:59

ابو ظہبی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی سعودی عرب میں منعقدہ القدس سربراہ اجلاس میں عدم شرکت ان کے اکھڑپن کاواضح مظہر ہے،ظہران اجلاس میں فلسطینی نصب العین کی حمایت کا ا عادہ کیا گیا ،عرب قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے حکمتِ عملیوں کی حمایت کی ضرورت پر زور دیا گیا ، قطر اپنے رویے سے مسلسل دیوار سے لگ رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی سعودی عرب کے شہر ظہران میں اتوار کو منعقدہ القدس سربراہ اجلاس میں عدم شرکت ان کے اکھڑپن کی واضح مظہر ہے۔

(جاری ہے)

انھوں نے سوموار کو اپنے ٹویٹر اکانٹ پر لکھا ہی: امیر قطر کی ظہران عرب سربراہ اجلاس سے غیر حاضری دوحہ کی بحران کے آغاز کے بعد سے اختیار کردہ غیر لچکدار پالیسی کا فطری اور قابلِ افسوس نتیجہ ہے۔

اس میں دانش عنقا ہے اور اس کی خطے میں تنہائی اور دیوار سے لگنے کا سلسلہ جاری ہے۔اس کا میڈیا ، تعلقاتِ عامہ کی کمپنیوں یا زر خرید وفاداری سے ازالہ نہیں کیا جاسکتا۔انور قرقاش نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ظہران میں عرب سربراہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب عرب دنیا ایک نازک دور سے گزر رہی ہے اور ان غیر معمولی حالات میں مشترکہ عرب نقطہ نظر اور اجتماعی لائحہ عمل وضع کرنے کے لیے یہ اجلاس بلایا گیا تھا۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز اس سب کی صلاحیت کے حامل تھے۔ظہران اجلاس میں فلسطینی نصب العین کی حمایت کا ا عادہ کیا گیا ہے۔عرب لیگ کے اس انتیسویں سربراہ اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیے میں عرب قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے حکمتِ عملیوں کی حمایت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :