ٹی ایچ کیوہسپتال حضرو میں عرصہ دراز سے ایم ایس کی سیٹ خالی ، سفارش پر جونیئر ڈاکٹر کو ایڈیشنل عہدہ دیدیا گیا

ڈاکٹر شہریارکو ایڈیشنل چارج دینے سے ہسپتال مسائل کی آماجگاہ ، مریض سہولیات و ادویات نہ ہونے کی شکایات کرنے لگے مریضوں کو اٹک اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں ریفر کئے جانے لگا،ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر عظمیٰ ممتاز کے کنٹرول سے بھی صورتحال باہر عوام نے ٹی ایچ کیو ہسپتال کا نام ریفرل سنٹر رکھ دیا، سہولیات اور ادویات نہیں تو ہسپتال کو تالے لگا دیئے جائیں، اہلیان چھچھ

منگل اپریل 19:16

اٹک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال حضرو میں عرصہ دراز سے ایم ایس کی سیٹ خالی ، صوبائی وزیر کے کار خاص کی سفارش پر جونیئر ڈاکٹر شہریارکو ایڈیشنل چارج دینے سے ہسپتال مسائل کی آماجگاہ ، مریض سہولیات اور ادویات نہ ہونے کی شکایات کرنے لگے ، سپیشلسٹ ڈاکٹرز اور عملہ کی شدید کمی ، مریضوں کو اٹک اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں ریفر کئے جانے لگا،ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر عظمیٰ ممتاز کے کنٹرول سے بھی صورتحال باہر ہو گئی، اہلیان چھچھ نے ٹی ایچ کیو ہسپتال کا نام ریفرل سنٹر رکھ دیا، سہولیات اور ادویات نہیں اور ریفر ہی کرنا ہے تو ہسپتال کو تالے لگا دیئے جائیں، اہلیان تحصیل حضرو کا اظہار خیال ، تفصیلات کے مطابق چند ماہ سے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال حضرو میں ایم ایس کی سیٹ خالی پڑی ہے جبکہ کئی ڈاکٹرز اور سپیشلسٹ کی کمی پہلے سے ہی موجود ہے ،بتایا گیا ہے کہ ایک قابل ایم ایس ڈاکٹر جواد کو سیاسی پریشر میں تبدیل کیا گیا اور ان کے بعد دو ایم ایس تعینات کئے گئے ، ڈاکٹر شوکت انتہائی احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے کہ ایک بار پھر صوبائی وزیر کی سفارش پر ان کے کار خاص کے قریبی عزیز گریڈ 17کے ایم او ڈاکٹر شہریار کو ایڈیشنل ایم ایس لگا دیا گیا جس سے ہسپتال میں مسائل کم ہونی کی بجائے مریضوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، سوشل میڈیا پر مریضوں کی دہائیاں موجود ہیں ، مریضوں کیلئے سہولیات اور ادویات نہیں ہیں جبکہ اٹک اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں مریضوں کو ریفر کرکے ان کی مشکلات دو چند کی جانے لگی ہیں ، اس صورتحال پر سوشل میڈیا میں ایک ہنگامہ برپا ہے ، تحصیل حضرو کے عوام نے ٹی ایچ کیو ہسپتال حضرو کی حالت زار پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ریفرل سنٹر قرار دیا ہے جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جب سہولیات میسر نہیں ہیں اور دوسرے ہسپتالوں میں مریضوں کو ریفر کرنا ہے تو ہسپتال کو تالے لگا دئیے جائیں، اس حوالہ سے ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر عظمیٰ ممتاز نے بھی خاموشی اختیار کررکھی ہے اور صورتحال ان کے کنٹرول سے باہر ہوگئی ہے ۔

متعلقہ عنوان :