مورکزئی ایجنسی کے سرکاری سکول نئے سال کے نصابی کتابو ںسے محروم، ہزاروں بچوں کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ

منگل اپریل 19:54

اورکزئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء)اورکزئی ایجنسی کے سرکاری سکول نئے سال کے نصابی کتابو ںسے محروم ہزاروں بچوں کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق اپر اورکزئی سب ڈویژن لوئر اورکزئی سب ڈویژن کے چاروں تحصیلوں تحصیل لوئر تحصیل سنٹرل تحصیل اپر تحصیل اسماعیل زئی کے 5سو تعلیمی اداروں میں سے 4سو سرکاری تعلیمی ادارے اور ان کے طلباء و طالبات نئے سال کے نصابی کتابوں سے محروم ہیں اب تک محکمہ تعلیم اورکزئی ایجنسی کے مطابق دو لاکھ 38ہزار 827کتابیں مل چکی ہیں جبکہ ہم نے فاٹا سیکرٹریٹ سے 7لاکھ 9ہزار 685کتابوں کا ڈیمانڈ کیاتھا جوکہ کلاس ادنی سے لیکر دسویں جماعت کے طلباء کیلئے تھا مگر ہمیں صرف دولاکھ سے زیادہ کتابیں ملی اور چھٹی جماعت سے لیکر نہم تک اکثر 5131کتابیں بلکل نہیں ملی ہیں جوکہ آٹے میں نمک کے برابر ہے اس عداد و شمار کے مطابق اورکزئی ایجنسی کے 5سو کے قریب تعلیم اداروں میں سے سو تعلیمی اداروں کو بھی مفت سرکاری نصابی کتابیں ملی ہیں جبکہ باقی اداروں کی ہزاروں طلباء و طالبات کے کتابیں نہ ملنے کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ گورنر خیبر پختونخوہ ظفر اقبال جھگڑا نے اتے ہی فاٹا میں تعلیمی ایمر جنسی کے نفاذ کا اعلان کیاتھا اور ہر سال داخلہ مہم کے حوالے سے واک کے بھی ہدایات کی تھی مگر مرکزی حکومت گورنر خیبرپختونخواہ کے اعلان صرف لفظی ثابت ہوئے اس میں فاٹا سیکرٹریٹ نے کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا داخلہ مہم کے حوالے سے واک صرف مخصوص علاقوں تک محدود ہیں اورکزئی ایجنسی کے عوام میں اپنے بچوں پر تعلیم حاصل کرنے کا شعور ہے مگر ایک طرف سکولوں میں سرکاری اساتذہ اور استانیاں صحیح طریقے سے ڈیوٹیاں نہیں دے رہی ہیں تو دوسری طرف کتابیں نہ ملنے کی صورت میں طلباء و طالبات کا مستقبل تاریک ہوتا جا رہا ہے جب تک مرکزی حکومت اور فاٹا سیکرٹریٹ نے پورے فاٹا اور خاص کر اورکزئی ایجنسی میں سرکاری اساتذہ کے حاضریاں یقینی نہ بنائے اور مفت کتابیں دینے کا وعدہ عملی طور پر پورا نہ کریں تو اورکزئی ایجنسی میں تعلیم نہ ہونے کے برابر ہوگا ویسے بھی اورکزئی ایجنسی میں معیاری تعلیم کا فقدان ہے مردانہ تعلیمی شرح دس فیصد سے کم جبکہ زنانہ تعلیمی شرح نہ ہونے کے برابر ہے مالدار لوگ کو نصابی کتابیں بازاروں اور دکانوں سے تو خرید سکتے ہیں مگر غریب ادمی کی اس وقت اپنے بچوں پر تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے اگر حکومت نے اس حوالے سے خصوصی اقدامات نہیں کئے تو اورکزئی ایجنسی میں تعلیم حاصل کرنا ہر شخص کیلئے مشکل ہو جائے گا