حکومت کی جانب سے گندم کی اجرائی قیمت کا اعلان نہ کرنے کے باعث فلو ملز مالکان تشویش کا شکار ہیں،چوہدری انصر جاوید

ملک بھر میں گندم تسلی بخش اور فاضل مقدار میں موجود ہے ۔ مگر حکومت کو اس کی نکاسی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے،چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن

بدھ اپریل 19:53

حکومت کی جانب سے گندم کی اجرائی قیمت کا اعلان نہ کرنے کے باعث فلو ملز ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری انصر جاوید نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے گندم کی اجرائی قیمت کا اعلان نہ کرنے کے باعث فلو ملز مالکان تشویش کا شکار ہیں ۔ ملک بھر میں گندم تسلی بخش اور فاضل مقدار میں موجود ہے ۔ مگر حکومت کو اس کی نکاسی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ فلور ملز کے ساڑھے چار ارب روپے پھنسے ہوئے ہیں ۔

اب فلور میں استعداد نہیں ہے کہ وہ ایکسپورٹ کر سکے ۔ حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت 1300 فی من مقرر کی گئی ہے مگر اجرائی قیمت کسی کو کوئی خبر نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کراچی پریس کلب میں پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی ممبران کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلور ملز کے مالکان میں یہ تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت کا اعلان تو کر دیا مگر اجرائی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا ۔

(جاری ہے)

کئی سالوں سے حکومت گندم کے اجراء کے وقت قیمت فروخت بڑھا دیتی ہے ۔ جس کی وجہ سے فلور ملز سیکٹر مسائل کا شکار رہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام صوبوں میں گندم کے یکساں اجرائی قیمت مقرر کرے تاکہ فلور ملز مالکان اپنی گندم خریداری کی پالیسی مرتب کر سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے بھی تصدیق کی ہے کہ فلور ملز کی ایکسپورٹ حکومت کی پالیسی کے مطابق ہوئی ہے ۔

لاہور ہائیکورٹ نے بھی فلور ملز کے حق میں فیصلہ دیا ہے لیکن اس کے باوجود بلاجواز کیسز التواء میں رکھے گئے ہیں اور فلور ملز کے ساڑھے چار ارب روپے پھنسے ہوئے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دنیا کی مہنگی ترین گندم پاکستانی قوم کھا رہی ہے ۔ عالمی مارکیٹ میں گندم کی فی ٹن قیمت 160 ڈالر سے 170 ڈالر ہے جبکہ پاکستان میں گندم 190 ڈالر فی ٹن کاشت ہوتی ہے اور پھر 62 فیصد گورنمنٹ کی جانب سے ڈیوٹی لگتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ان تمام فلور ملز کی بلا جواز روکی گئی ادائیگیاں فوری کی جائیں ۔ مزید زیر التواء ریبٹ کیسز کی ادائیگیوں کے لیے فوری طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو فنڈز فراہم کیے جائیں گے تاکہ فلور ملز مالکان کو ریبٹ کی ادائیگی کی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات حکومت کی جانب سے منظور نہیں کیے گئے تو فلور ملز انڈسٹری کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو گی ۔