پاکستان کی 50حلال سرٹیفائیڈ کمپنیاں دنیا بھر میں حلال پروڈکٹس ایکسپورٹ کررہی ہیں، میاں زاہد حسین

بدھ اپریل 22:25

پاکستان کی 50حلال سرٹیفائیڈ کمپنیاں دنیا بھر میں حلال پروڈکٹس ایکسپورٹ ..
کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم کے صدر میاں زاہد حسین نے کہاہے کہ حلال فوڈ دنیاکی چند مارکیٹس میںسے ایک ہے جو تیزی کے ساتھ ترقی کررہی ہیں، پاکستان میں تقریباً50 حلال سرٹیفائیڈ کمپنیاں دنیا بھر میں حلال پروڈکٹس ایکسپورٹ کررہی ہیں، پاکستان کی گوشت مارکیٹ 100 فیصد حلال پر مشتمل ہے جن کے پاکستان میں 100 فیصد ڈیمانڈ کے ساتھ ساتھ افغانستان،، مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید میں 500 ملین سے زیادہ کنزیومرز ہیں، حلال سرٹیفیکیشن کے لئے ملک میں حلال انڈسٹری ریسرچ سینٹرموجود ہے جو سرٹیفیکیشن کے ساتھ ملک کی پہلی ریسرچ بیسڈ ایڈوائزری کونسل ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حلال پروڈکٹس کی صنعت 2013ء میں14ملین ڈالر سالانہ سے 2015ء میں 244ملین ڈالر سالانہ ہوئی، جو ایک سنگ میل ہے،،دنیا بھر کے 2ارب مسلم جبکہ 500ملین غیر مسلم حلال پروڈکٹس استعمال کرتے ہیں جو اس شعبہ میں ترقی کے روشن امکانات کی دلیل ہے،،پاکستان میں اس شعبہ کی ترقی کا قدرتی طور پر انتہائی زبردست پوٹینشل موجود ہے، پاکستان کی میٹ کوالٹی، حلال ہونے کی یقین دہانی اور پاکستان کی جغرافیائی لوکیشن جہاں افغانستان،، مشرق وسطیٰ کے ممالک، روس،، چین اور ایران کے ساتھ براہ راست برآمدات کی سہولت پاکستان کی حلال فوڈ انڈسٹری کو دنیا کے دیگر ممالک سے ممتاز کرتی ہے، باوجود ان سہولیات کے نا اہلی کے باعث پاکستان کی حلال فوڈ انڈسٹری کو دنیا بھر میں وہ مقام حاصل نہیں ہوا جس کی اہلیت اس صنعت میں موجود ہے۔

(جاری ہے)

میاں زاہد حسین نے کہاکہ پاکستان دنیا بھر کے لئے حلال پروڈکٹس کے حب کے طور پر ابھر نے کی صلاحیت رکھتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس صنعت سے وابستہ افراد اور کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کریں اور برآمدات کے حوالے سے گلوبل مارکیٹس کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس صنعت کو جدید خطوط پر استوار کریں۔ حلال فوڈ کی دنیا بھر میں زبردست ڈیمانڈ ہے جس میں انڈونیشیا، بھارت،، اور عرب ممالک کے ساتھ ساتھ یورپ اور امریکہ بھی شامل ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ لائیو اسٹاک پروڈکشن میں پاکستا ن کا نمبر پانچواں ہے مگر تاحال حلال پروڈکٹس کی ایکسپورٹ کے حوالے سے پاکستان ٹاپ ٹین ممالک میں نہیںآسکا جو باعث تشویش ہے۔ یورپ او رامریکہ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھنے سے حلال فوڈ کی ڈیمانڈ زوروں پر ہے اگر پاکستان ان ملکو ں میں برآمدات کے حصے کو بڑھائے تو پاکستانی معیشت کو بہت سہارا مل سکتا ہے۔ پاکستان کی حلال میٹ پروڈکشن اور گلوبل ڈیمانڈ میں تیز ترین اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی حلال فوڈ انڈسٹری دنیا میں منفرد اور خصوصی مقام حاصل کرسکتی ہے۔حکومت متعلقہ اداروں کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کر نے کے لئے پابند کرے۔