نئے آئل کوآپریشن گروپ کی تشکیل کیلئے اوپیک اور غیر اوپیک رکن ممالک کا اہم اجلاس ریاض میں کل شروع ہوگا، روس بھی شریک

جمعرات اپریل 12:13

نئے آئل کوآپریشن گروپ کی تشکیل کیلئے اوپیک اور غیر اوپیک رکن ممالک ..
ریاض ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) سعودی عرب نے روس کے ساتھ مل کر اوپیک کی طرز پر اپنا آئل گروپ تشکیل دینے کی کوششیں تیز کر دی۔اس سلسلے میں سعودی دارلحکومت ریاض میں کل جمعہ کو ایک اہم کانفرنس شروع ہو رہی ہے جس میں روس کے خصوصی وفد سمیت اوپیک اور غیر اوپیک رکن ممالک کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے۔۔سعودی عرب نے امید ظاہر کی ہے کہ روس کی آئل کلب میں شرکت سے عالمی تیل مارکیٹ کو استحکام حاصل ہو گا اور ان کی آئل یونین کے ارکان کی تعداد چودہ رکنی اوپیک کے ارکان سے زیادہ ہوگی جو گزشتہ چھے دہائیوں سے عالمی تیل مارکیٹ پر چھائے ہوئے ہیں،ماہرین کے مطابق نئے کلب میں روس کی شرکت کا مطلب اوپیک کی موت ہو سکتا ہے،رواں سال جنوری میں سعودی عرب نے اوپیک اور نان اوپیک تیل کی پیداوار دینے والے ممالک پر مشتمل ایک نیا کلب بنانے کا خیال متعارف کراوایا تھا تاکہ آئل پروڈیوسرز ممالک کے درمیان ایک طویل المدتی تعاون پر مبنی فریم ورک قائم کیا جا سکے۔

(جاری ہے)

اس خیال کو متحدہ عرب امارات اور کویت سمیت اوپیک کے رکن ممالک طرف سے زبردست پذیرائی ملی تھی ۔۔سعودی عرب کو یقین ہے کہ نئے آئل گروپ کے قیام سے جہاں کروڈ آئل مارکیٹ میں توازن آئے گا وہاں تیل کے فی بیرل نرخ بھی بحال ہو کر 70 ڈالر سے زیادہ پر قائم رہ سکیں گے۔خام تیل کی قیمتیں 2014 کے وسط میں سعودی عرب اور دوسرے ممالک کی جانب سے امریکی شیل آئل کے مقابلے اپنی تیل پیداوار کم کرنے سے انکار کے بعد بحران آیا۔-