بچوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافے کیخلاف سمیت 3تحاریک التوائے کار پنجاب اسمبلی میں جمع

جمعرات اپریل 14:08

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) بچوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافے کے خلاف سمیت 3تحاریک التوائے کار پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئیں۔ڈپٹی اپوزیشن لیڈر محمد سبطین خاں کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک التوائے کار میں کہا گیا ہے کہ قصور کے بعد چیچہ وطنی میں بھی معصوم کلی نور فاطمہ کو مسل دیا گیا ہے ،ظالموں نے زیادتی کے بعد زندہ جلا کر درندگی کی بدترین مثال قائم کی،قصور کے واقعے کے بعد وزیراعلی پنجاب نے آئین و قانون میں تبدیلی کے دعوے کیے مگر عوام کا غصہ ٹھنڈا ہونے اور میڈیا میں خاموشی کے بعد ماضی کی طرح وہ اپنے فرائض منصبی بھول گئے۔

زینب قتل کیس کے تیز ترین فیصلے پر امید تھی کہ ملزم عمران کی پھانسی کے بعد بدقماش راہ راست پر آجائیں گے لیکن نہ جانے حکومت ملزم کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں کیوں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

(جاری ہے)

ایسے گھنائونے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔متنحکومت نصاب تعلیم میں مذہبی،اخلاقیات اور معاشرتی اقدار کے مضامین شامل کرے جس سے نوجوان نسل کی تربیت یقینی ہوگی۔

سوشل میڈیا،فلموں اور لٹریچر میں جنسی بے راہ روی شہوانی جذبات کی تسکین پر پابندی عائد کی جائے۔۔تحریک انصاف کے رکن اسمبلی محمد شعیب صدیقی کی جانب سے اداروں کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث زیر زمین پانی کی سطح کم ہونے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں تحریک التوائے کار جمع کروائی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ ایک کروڑ سے زائد آبادی والے شہر لاہور میں پینے کا صاف پانی محض دس سال میں ختم ہو سکتا ہے،ماہرین کے مطابق زیر زمین پانی کی سطح سالانہ اڑھائی فٹ کم ہو رہی ہے۔

سطح زمین سے 100 فٹ نیچے موجود پانی آلودہ ہے، اب صاف پانی کے لئے 700فٹ تک بورنگ کی جا رہی ہے جبکہ 1000 فٹ سے نیچے پانی ہی موجود نہیں۔ ناقص منصوبہ بندی اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی میں تو موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔جبکہ تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی سعدیہ سہیل رانا نے ایک تحریک التوائے کار پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نجی اخبار کی خبر کے مطابق میو ہسپتال کی تاریخ کا انوکھا کارنامہ، نیورالوجی ڈیپارٹمنٹ میں نیورو انجیوگرافی مشین 34 سال میں بھی فعال نہیں ہو سکی جسکی وجہ سے سرکاری خزانے کو ایک کروڑ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

مشین کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے ذرائع کے مطابق ہسپتال انتظامیہ نے 1984 میں اس مشین کا جنریٹر خریدا اسکے بعد 1988 میں اس مشین کا مین یونٹ خرید کر ہسپتال پہنچایا گیا۔ ان دونوں اشیاء کے بعد کسی قسم کے پارٹس فراہم نہیں کئے گئے۔ آڈٹ حکام نے واضح کیا کہ انتظامیہ کی غفلت اور ناقص نگرانی کے باعث سرکاری خزانے کو ایک کروڑ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔