مہاجر کیمپ کارکہ پٹہکہ شدید مسائل کا شکار، رہائشی کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور

جمعرات اپریل 14:52

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) مہاجر کیمپ کارکہ پٹہکہ شدید مسائل کا شکار،کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور،حکومت آزاد کشمیر کے کانوں تک جوں بھی نہ رینگ سکی۔1989میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آئے ہوئے مہاجرین مہاجر کیمپ کارکہ پٹہکہ تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔اس کیمپ کی ابھی تک زمین بھی الاٹ نہیں ہو سکی اور قبرستان کیلئے بللکل زمین نہیں،جس جگہ پر ابھی کارکہ کیمپ کے مہاجرین زندگی بسر کر رہے ہیں ،وہاں پر بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایک مکان میں تین تین فیملیز بمشکل گزارا کر رہے ہیں۔مہاجر کیمپپ میں بعض ایسے خاندان بھی ہیں جن کے پاس رہنے کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔جن میں متی اللہ میر ولد حفیظ اللہ میر،منظور میر ولد جہانگیر میر،راجہ امریز ولد اورنگزیب،ملک لعل حسین ولد ملک نزیر حسین،عالمگیر میر ولد جہانگیر میر ودیگر لوگ شامل ہیں ۔

(جاری ہے)

مہاجرین کارکہ پٹہکہ نے حکومت آزاد سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں دیگر کیمپوں کی طرح بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں،جیسا کہ ٹھوٹھہ مالسی،مہاجر کیمپ امبور ڈیلی فارم،مہاجر کیمپ مانکپیاں زیرو پوائنٹ شامل ہیں ان کیمپوں کی بانسبت مہاجر کیمپ کارکہ پٹہکہ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیساسلوک کیوں کیا جا رہا ہے،اس کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائیں ہم حکومت آزاد،محکمہ بالیات یا پھر کسی اور کو۔انہوں نے حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں دیگر کیمپوں کی طرح بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ہم بھی سکون کی زندگی بسر کر سکیں۔

متعلقہ عنوان :