ایڈن ہائوسنگ کیس میں قانون کے مطابق میرٹ پر تحقیقات کی جارہی ہیں،ترجمان نیب لاہور

جمعرات اپریل 18:30

ایڈن ہائوسنگ کیس میں قانون کے مطابق میرٹ پر تحقیقات کی جارہی ہیں،ترجمان ..
لاہور۔19 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) نیب لاہور ایڈن ہائوسنگ کیس میں قانون کے مطابق میرٹ اور صرف میرٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے ،ْ یہ بات ترجمان نیب لاہور نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہی۔ ترجمان نے بتایا کہ ڈی جی نیب لاہور کے مطابق ایڈن انتظامیہ کے خلاف باقاعدہ کریمینل پروسیڈنگ کا آغاز کردیا گیا ہے اور ایڈن انتظامیہ کی اربوں روپے مالیت کی مکمل جائیدادیں اور بینک اکائونٹس کو بھی منجمد کیا جا چکا ہے ،ْ ترجمان نیب کے مطابق نیب لاہور نے محکمہ ایکسائز کو ایڈن انتظامیہ کی تمام گاڑیوں کی فروخت و ٹرانسفر کے حوالے سے بھی پابند کر دیا گیا ہے ،ْ ترجمان نیب کے مطابق ایڈن انتظامیہ کے ممکنہ ملک سے فرار کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت داخلہ کو تمام ایڈن انتظامیہ کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے فروری 2018ء میں ہی مراسلہ ارسال کر دیا گیا تھا جبکہ مذکورہ مراسلہ گزشتہ دو ماہ سے وزارت داخلہ میں التواء کا شکار ہے۔

(جاری ہے)

نیب ترجمان کے مطابق ایڈن ہائوسنگ منصوبوں کے مالک ڈاکٹر امجد کا پاسپورٹ بھی بلیک لسٹ کروایا جا چکا ہے جبکہ دیگر شریک پارٹنرز کے پاسپورٹ بھی بلیک لسٹ کروانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ترجمان کے مطابق نیب لاہور کی ذاتی مداخلت اور گارنٹی پر ایڈن بلیوارڈ منصوبے کی منقطع بجلی کو لیسکو سے بحال کروایا گیا ہے جبکہ نیب تفتیشی حکام متاثرین کے ازالے کیلئے عنقریب ایک کمیٹی کی تشکیل کیلئے سرکردہ ہیں۔

کمیٹی ایل ڈی اے حکام ایڈن انتظامیہ ،ْ نمائندہ ایڈن متاثرین ایس ای سی پی افسران اور نیب تفتیشی افسران پر مشتمل ہو گی۔ کمیٹی قانون کے مطابق جائیدادوں کی فروخت اور ان سے موصول رقم کو تمام متاثرین میں منافع کے ساتھ تقسیم کرے گی۔ نیب ترجمان کے مطابق نیب لاہور کی بھرپور کوشش کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز کو کمیٹی میں شامل کیا جائے گا جبکہ نیب لاہور کی جانب سے ایڈن متاثرین کی سہولت کے پیش نظر نیب نے ویب سائٹ پر شکایات فارم اپ لوڈ کر دیئے ہیں۔

ڈی جی نیب لاہور ایڈن ہائوسنگ منصوبوں کے کیس کی خود نگرانی کر رہے ہیں تاکہ متاثرین کے نقصان کا جلد از جلد ازالہ کیا جا سکے۔ نیب ترجمان کے مطابق ڈی جی نیب لاہور کے احکامات کے مطابق ایڈن کرپشن کیس میں کسی قسم کی غفلت کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔