چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈکو ای دسترس پر 169شکایات موصول، 160فوری حل

جمعرات اپریل 19:26

راولپنڈی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) شہریوںکی شکایات کے فوری ازالہ کے لیے چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کا ’’ای دسترس ‘‘ نظام بتدریج مقبولیت حاصل کرنے لگا ،ایک ماہ کے دوران ’’ای دسترس ‘‘ کے ذریعے شہریوں نے 169شکایات کا اندراج کرادیا ۔چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے ایڈیشنل سی ای او نوید نواز نے اے پی پی کو بتایاکہ شہریوں کی شکایات کے فوری اور تیز تر حل کے لیے موبائل ایپلی کیشن ’’ای دسترس ‘‘ عوام میں مقبول ہونے لگی ہے اور ایک ماہ میں شہریوں نے ای دسترس سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے سینی ٹیشن ،الیکٹرک اور پانی سے متعلقہ مجموعی طور پر 169شکایات کا اندراج کرایا جن میں سے 160شکایات بروقت حل کر دی گئیں ۔

نوید نواز نے سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایاکہ 9شکایات نالوں سے متعلقہ ہیں جن پر کام جاری ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے اے پی پی کو بتایاکہ زیادہ تر شکایات سینی ٹیشن ،الیکٹرک اور پانی سے متعلقہ تھیں جنھیں بروقت حل کیا گیا ۔چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے ایڈیشنل ایگزیکٹو آفیسر نوید نواز نے نیوز ایجنسی کو بتایاکہ چکلالہ کینٹ بورڈ نے شہریوں کی جانب سے صفائی ،واٹر سپلائی ،سٹریٹ لائٹس و غیر قانونی تعمیرات سمیت دیگر شعبہ جات کی شکایات کے جلد ازالے اور اہلکاروں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے ’’ای دسترس ‘‘کا اجراء کا فیصلہ کیا تھا جس کے مثبت نتائج مل رہے ہیں اور اس سے چکلالہ کینٹ بورڈکی استعداد کار میں بھی اضافہ ہوا ہے اور انتظامی سطح پر مزید بہتری کے لیے بھی معاونت ملی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ عوام الناس کو فی الوقت ای دسترس کے بارے میں زیادہ آگہی نہیں ہے تاھم یہ نظام بتدریج شہریوں میں مقبولیت حاصل کر رہاہے کیونکہ اس نظام کے تحت کسی بھی شہری کی شکایت رد نہیں ہو سکتی اور شکایت کنندہ کو فوری فیڈ بیک ملتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں نوید نواز نے اے پی پی کو بتایاکہ چکلالہ کینٹ کا شعبہ فوڈ ناقص صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کی پابندی کے لیے مختلف فوڈ آئوٹ لیٹس ،ہوٹلز ،بیکریوں اور دیگر اشیائے خور ونوش تیار کرنے والے مقامات پر اچانک چھاپے مار کر معیار کی جانچ پڑتال میں مصروف ہے ۔

انہوں نے بتایاکہ چکلالہ کینٹ کی فوڈ برانچ نے ایک ماہ میں مختلف علاقوں سے حاصل شدہ خوراک کے 20نمونوں کو غیر معیاری ہونے پر متعلقہ فوڈ آئوٹ لیٹس کو بھاری جرمانے کیے اور انہیں خبردار کیاکہ آئندہ اشیائے خور ونوش کے معیار میں کوتاہی پر مزید سخت سزائیں دی جائیں گی ۔

متعلقہ عنوان :