اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 میں امیدواروں کے نامزدگی فارم میں کم معلومات دینے کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا

پارلیمنٹ کو قانون سازی کا مکمل اختیار ہے، ایسا حکم نہیں دے سکتا کہ پارلیمنٹ الیکشن کمیشن سے پوچھ کر قانون سازی کرے، جسٹس اطہر من اللہ، فریقین کو 23 اپریل تک تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت

جمعرات اپریل 21:03

اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 میں امیدواروں کے نامزدگی فارم ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 میں امیدواروں کے نامزدگی فارم میں کم معلومات دینے کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر تے ہوئے فریقین کو 23 اپریل تک تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ فاضل جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے اور اسے قانون سازی کا مکمل اختیار ہے ایسا حکم نہیں دے سکتا کہ پارلیمنٹ الیکشن کمیشن سے پوچھ کر قانون سازی کرے۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور عمار ضیاالدین کی درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اراکین پارلیمنٹ نے ترمیم کے ذریعے نامزدگی فارم میں اپنے ٹیکس اور کریمنل کیسز کی معلومات نہ دینے کی قانون سازی کی۔

(جاری ہے)

نامزدگی فارم میں تبدیلی کرتے ہوئے پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن سے مشاورت نہیں کی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور یہ سلب نہیں کیا جاسکتا، ایسا حکم نہیں دے سکتا کہ پارلیمنٹ الیکشن کمیشن سے پوچھ کر قانون سازی کرے کیونکہ پارلیمنٹ سپریم ہے اور اسے قانون سازی کا مکمل اختیار ہے۔عدالت نے تمام فریقین کو 23 اپریل تک تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔