لاہور،سپریم کورٹ آف پاکستان کی سفارش پر قائم کمیٹی کا سندھ اور بلوچستان کے اکیس غیر معیاری نجی اور سرکاری لاء کالجز کو بند کرنے کی سفارش

کمیٹی کا ایل ایل بی کی تین سالہ ڈگری ختم کرنے اور پانچ سالہ ڈگری پروگرام شروع کرنے کی تجویز

جمعرات اپریل 23:30

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان کی سفارش پر قائم کمیٹی نے سندھ اور بلوچستان کے اکیس غیر معیاری نجی اور سرکاری لاء کالجز کو بند کرنے کی سفارش کر دی،کمیٹی نے ایل ایل بی کی تین سالہ ڈگری ختم کرنے اور پانچ سالہ ڈگری پروگرام شروع کرنے کی بھی سفارش کر دی۔۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے غیر معیاری لاء کالجز پر لئے گئے از خود نوٹس میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے سفارشات طلب کر رکھی ہیں،،سینئر قانون دان حامد خان کی سربراہی میں قائم کمیٹی کا نواں اجلاس منعقد ہوا،کمیٹی کی ہدائت پر سندھ اور بلوچستان کے کمیشنز نے اپنی رپورٹ کمیٹی کو پیش کر دیں،کمیٹی کے ممبر میاں ظفر اقبال کلانوری نے بتایا ہے کہ اجلاس میں سندھ اور بلوچستان کمیشنز کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا اور سفارشات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے،انہوں نے بتایا کہ کمیٹی نے سندھ کے پندرہ اور بلوچستان کے تین غیر معیاری لاء کالجز کو بند کرنے کی سفارش کر دی،انہوں نے کہا کہ سندھ کے تین مزید لاء کالجز کا کسی یونیورسٹی سے الحاق نہ ہونے کے سبب بھی بند کرنے کی سفارش کی ہے،انہوں نے بتایا کہ سندھ کے بیس جبکہ بلوچستان کے چار لاء کالجز کو فیکلٹی مکمل کرنے اورسہولیات کی فراہمی کے لئے وارننگ جاری کرنے کی سفارش بھی کی ہے،انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے قائم صوبہ پنجاب کے کمیشن کو اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنے کے لئے تیس اپریل کی مہلت کی سفارش کی ہے،انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ایل ایل بی کی تین سالہ ڈگری ختم کرنے اور پانچ سالہ ڈگری پروگرام شروع کرنے کی بھی سفارش کر دی،اجلاس میں لاء کالجزمیں زیر تعلیم ایک سو طالبعلموں کے لئے ایک پرنسپل اور چھ مستقل فیکلٹی ممبرز کے تقرر کی سفارش کی گئی ہے،اجلاس میں بیرون ممالک سے لاء گریجوایٹس اور بیرون ملک یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ تعلیمی اداروں سے ڈگریاں لینے والے قانون کے طالبعلموں کے لئے بار کونسلز کی انرولمنٹ سے قبل تربیتی کورسز اور اضافی مضامین کا امتحان پاس کرنے کی سفارش کی گئی ہے،کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ایل ایل ایم اور قانون سے متعلق پی ایچ ڈی کرانے والے ادارے گریجوایشن نہ کرانے پر پاکستان بار کونسل اور ہائرایجوکیشن کمیشن کے رولز کو مد نظر رکھیں اور رولز کے تحت لاء گریجوایشن کرائیں۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے جسٹس ریٹائرڈ سردار اسلم پر مشتمل کمیشن تشکیل دیتے ہوئے اسلام آباد کے لاء کالجز سے متعلق رپورٹ طلب کر لی،،سپریم کورٹ کی قائم کردہ کمیٹی کے اجلاس میں انور کمال ایڈووکیٹ،،ڈاکٹر خالد رانجھا، اعظم نذیر تارڑ، پروفیسر احمد علی، جسٹس ریٹائرڈ عارف خلجی،،چیف جسٹس ریٹائرڈ امان اللہ اور ڈاکٹر علی قز لباس شریک تھے ،،کمیٹی کے چار ممبران سپریم کورٹ کی جانب سے قائم چارصوبائی کمیشنوں کے سربراہ بھی ہیں،عدالتی حکم پر قائم کمیٹی چوبیس اپریل کو اپنی سفارشات پر مبنی عبوری رپورٹ سپریم کورٹ کے روبرو پیش کرے گی۔