حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے، صحافتی اداروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرینگے،چوہدری طارق فاروق

پریس فائونڈیشن کو مستحکم کر کے اسے مالیاتی طور پر خود کفیل بنایا جائیگا، جن اضلاع میں پریس کلب کی زمین موجود ہے وہاں عمارتیں حکومت تعمیر کریگی، قائم مقام وزیراعظم آزاد کشمیر

جمعہ اپریل 16:50

مظفر آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) آزاد کشمیر کے قائمقام وزیراعظم چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے ۔ صحافتی اداروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے ۔ پریس فائونڈیشن کو مستحکم کر کے اسے مالیاتی طور پر خود کفیل بنایا جائے گا ۔ جن اضلاع میں پریس کلب کی زمین موجود ہے وہاں عمارتیں حکومت تعمیر کرے گی اور جہاں زمین کے مسائل ہیں ان کو بھی یکسو کیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزاد جموں و کشمیر پریس فائونڈیشن بورڈ آف گورنرز کے ممبران سے ملاقات اور ان کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب میں وائس چیئرمین پریس فائونڈیشن سردار ذوالفقار علی ، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات راجہ اظہر اقبال ، سابق وائس چیئرمین محمد امجد چوہدری ، ڈائریکٹر جنرل کشمیر لبریشن سیل فدا حسین کیانی ، پریس سیکرٹری راجہ محمد وسیم ، ممبران بورڈ آف گورنرز محمد حیات اعوان ، محمد عارف کشمیری ، شہزاد احمد راٹھور ، راجہ محمد اشرف خان ، راجہ محمود ایوب راٹھور ، محمد زاہد بشیر ، چوہدری زمرد حسین ، سینئر صحافی جاوید اقبال ہاشمی اور ضیاء الرحمن مغل بھی موجود تھے ۔

(جاری ہے)

ممبران بورڈ کی جانب سے قائمقام وزیراعظم سے مطالبہ کیا گیا کہ پلندری ، ہٹیاں اور نیلم میں پریس کلبوں کیلئے زمین موجود ہے لہٰذا ان کی عمارات کی تعمیر آمدہ بجٹ میں شامل کی جائے ۔ فائونڈیشن کے کمرشل پلازہ جات کیلئے وزیراعظم کے احکامات کے عین مطابق کمرشل زمین مہیا کی جائے اور ترقیاتی بجٹ کا ایک فیصد محکمہ اطلاعات کو منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ محکمہ کے نارمل میزانیہ کو دوگنا کیا جائے تاکہ اخبارات اور کارکنان کے مسائل حل ہو سکیں ۔

قائمقام وزیراعظم نے جملہ مطالبات سے اتفاق کرتے ہوئے آمدہ بجٹ میں بڑی خوشخبری سنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ آزاد کشمیر میں صحافتی معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ بعض اخبارات محض بھرتی پر چل رہے ہیں ، اخبار کا جتنا اچھا معیار ہو گا اسے عوام میں اتنا ہی پسند کیا جائے گا ۔ صحافی کیلئے ضروری ہے کہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو ، تعلیمی معیار کو بنیاد بنایا جائے اور اخبارات مشقتی بھرتی کرنے کی بجائے اچھے کردار اور اچھے معیار کو ترجیح دیں ۔

متعلقہ عنوان :