بھاری فیسوں کے حصول کے باوجود کراچی کے پرائیویٹ اسکولز طلبا کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے سے قاصر

کلاس رومز قید خانوں میں تبدیل ، گنجائش سے زیادہ طلبا ، پینے کیلیے صاف پانی ،شیدید گرمی جنریٹر اور کھیل کے میدا ن میسر نہیں حکومت سندھ کو ان اسکولوں کو رجسٹرڈ نہیں کرنا چاہے جو طلبا کو حصول علم کی بنیادی اور اہم فراہم نہیں کر سکتے،شہری حلقوں کا مطالبہ

ہفتہ اپریل 18:16

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) تعلیم کو تجارت بنانے والے کراچی کے بیشتر پرائیویٹ اسکولز والدین سے بھاری فیسیں وصول کے باوجود طلبا کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے سے قاصرہیں ، نجی اسکولوں میں کلاس رومز میں گجائش سے زیادہ طلبا ،پینے کیلئے صاف اور ٹھنڈ ے پانی کی عدم فراہمی ،شدید گرمی میں جنریٹر اور کھیل کے میدان جیسی اہم اور بنیا دی وسہولتیں میسر نہیں ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق شہرقائد کے سرکاری اسکول تو برسوں سے خستہ حالی کا شکار ہیں لیکن اب والدین سے بھاری فیسیں بٹورنے والے پرائیویٹ اسکولز بھی طلبا کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے سے قاصرنظر نہیں آرہے ہیں ۔اکثر اسکولزچھوٹے گھروں میں تعمیر کیے گئے ہیں ، جس کی وجہ سے حبس کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے اور طلبا کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پرتا ہے۔

(جاری ہے)

تعلیم کو تجارت بنانے والے اسکول مالکان کلاسوں میں گنجائش سے زیادہ طلبا بٹھا دیتے ہیں اور یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ایک ڈیسک پر دو سے زیادہ طلباحصول تعلیم میں مصروف ہوتے ہیں ۔ اسکولوں میں مناسب تعداد میں کمرے موجود نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف طلبا بلکہ اساتذ ہ کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔طلبا کو اسکولز میں زندگی کی سب سے بنیادی اور اہم ضرورت پینے کیلئے صاف اور ٹھنڈا پانی بھی میسر نہیں۔

اسکولز میں فلٹر نہ ہونے کی صورت میں طلبا گرم اور غیرمعیاری پانی پینے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے طلبا میں خطرناک و موذی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ طلبا کا کہنا ہے کہ ہم اپنے گھروں سے پینے کیلئے پانی لاتے ہیں لیکن سخت گرمی میں یہ پانی بھی گرم ہو جاتا ہے اور پینے کے قابل نہیں رہتا ۔اکثر اسکولوں میں جنریٹر کی سہولت بھی میسر نہیں جس کی وجہ سے بجلی نہ ہونے کی صورت میں طلبا پسینے میں شرابور رہتے رہیں اور ان پڑھائی میں خلل پیدا ہوتا ہے۔

دوسری طرف قواعد و ضوابط کے مطابق ہراسکول میں کھیل کا میدان ہونا ضروری ہے لیکن اس معاملے پراسکول انتظامیہ کو دلچسبی نہیں لیتی جبکہ طلبا کیلئے غیر نصابی سرگرمیاں بھی انتہائی ضروری ہیں ۔ان سرگرمیوں سے طلبا کو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی بے حد سکون ملتا ہے ۔اس ضمن میں شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بھاری فیسوں کی وصولی کے باوجود نجی اسکولوں میں بنیادی سہولیات کا فراہم نہ کیا جانا افسوسناک امر ہے ۔

اس تمام صورت حال کی ذمہ داری وزارت تعلیم ہے جو اپنے وضع کردہ قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کرانے میں ناکام نظرآتی ہے ۔پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن اور نجی تعلیمی اداروں کی دیگر ایسوسی ایشنز فیسوں میں اضافے اور دیگر معاملات پر تو کھل کر بات کرتی ہیں لیکن ان اہم نکات پر سنجیدگی سے عملدرآمد کے لیے تیار نہیں ہیں ۔انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جو اسکولز طلبا کوبنیادی سہولیات فراہم نہیں کررہے ہیں ان کی رجسٹریشن فوری طور پر منسوخ کی جائے ۔