18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ وفاق کے لیے خطرے کی گھنٹی ہو گی،میاں رضاربانی

ریفرنڈم کے نتائج سے ثابت ہو گیا کہ پی آئی اے کے ملازمین نجکاری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ،سابق چیئرمین سینیٹ جب کے الیکٹرک کی نجکاری کی گئی تھی تو ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ یوٹیلیٹی کی نجکاری نہ کی جائے ،سعید غنی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس

ہفتہ اپریل 19:24

18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ وفاق کے لیے خطرے کی گھنٹی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ اگر 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ وفاق کے لیے خطرے کی گھنٹی ہو گی ۔ پی آئی اے کے ریفرنڈم میں مزدوروں کی جدوجہد کامیاب ہوئی ہے اور ریفرنڈم کے نتائج سے ثابت ہو گیا کہ پی آئی اے کے ملازمین نجکاری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے لیکن پی آئی اے کی مینجمنٹ ریفرنڈم کے نتائج کو قبول نہیں کرنا چاہتی ۔

اگر نتائج تسلیم نہ کیے گئے تو پھر سی ای او اپنا بوریا بستر باندھ لیں اور پی آئی اے کے جہاز پر قومی پرچم کی شناخت کو ختم کرنے کے مسئلے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو بلاول ہاؤس میڈیا سیل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر صوبائی وزیر اور کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی ، راشد ربانی اور دیگر بھی موجود تھے ۔

رضا ربانی نے کہا کہ پی آئی اے ریفرمڈم کے نتیجے میں جو مزدور یونین کامیاب ہوئی ہیں ، انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ ان کی جدوجہد کو سراہنے کے لیے آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں ۔ ہر سیشن پر انہوں نے تین ہزار ووٹ کے مارجن سے کامیابی حاصل کی ہے اور ایئرلیگ کو شکست دی ہے ۔ یہاں تک کے ایئر لیگ لاہور سے بھی کامیاب نہیں ہو سکی ۔ انہوں نے کہا کہ 2016 میں پی آئی اے کے ملازمین نے طویل جدوجہد کی تھی ۔

اس جدوجہد کے نتیجے میں آج اس ریفرنڈم میں کامیابی ملی ہے۔ ریفرمڈم کے نتائج نے ثابت کر دی اہے کہ پی آئی اے کے لوگ نجکاری کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔ حکومت پی آئی اے کو جان بوجھ کر فروخت کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اوپن اسکائی پالیسی کے تحت کراچی ، لاہور ، اسلام آباد اور سیالکوٹ کے 10 سے 12 روٹ باہر کی ایئرلائن کو فروخت کیے گئے اور جو پریمئر سروس شروع کی گئی تھی ، اس کو بھی بند کر دیا گیا ۔

رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان کا جھنڈا جہاز پر موجود تھا اور اس قومی پرچم کی وجہ سے پی آئی اے کا طیارہ جس ملک میں بھی موجود ہوتا تھا ، وہاں اس کی شناخت ہو جاتی تھی ۔ لیکن بغیر کسی مشورے اور پارلیمانی کمیٹی میں مسئلے کو لے جائے بغیر جہاز سے قومی پرچم کو ہٹا کر مارخور کو بٹھا دیا گیا اور قومی پرچم کی شناخت کو ختم کیا گیا ۔ ہم اس مسئلے کو پارلیمنٹ بالخصوص سینیٹ میں اٹھائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ جھنڈے کو اتارنے سے 30 ہزار ڈالر فی جہاز کا خرچہ ہے ۔ حکومت یہ خرچہ برداشت کرنے کے لیے تیا رہے لیکن مزدوروں کو اجرت دینے کے لیے تیار نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 2016 ء میں سپریم کورٹ میں گذشتہ ریفرنڈم جس میں ایئرلیگ نے کامیابی حاصل کی تھی ، اس کو دھاندلی زدہ قرار دیا تھا ۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس حکومت نے اس کو دو سال تک چلنے دیا ۔

اب پی آئی کی مینجمنٹ موجودہ ریفرنڈم کے نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیا رنہیں ہے ۔ انہوں نے ہیڈ آفس میں رینجرز کو بھی بلا لیا ہے ۔ ہم پی آئی اے کے سی ای او کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ان کے تانے بانے وزیر اعظم ہاؤس سے ملتے ہیں اور وہ وہاں سے یہاں آئے ہیں ۔ اگر ووٹ کے تقدس کی بات کرتے ہیں تو پی آئی اے نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سی بی اے کو تسلیم نہیں کی اگیا تو سی ای او بھی اپنا بوریا بستر باندھ لیں ۔

یہ مسئلہ صرف سی بی اے کا نہیں بلکہ پھر پارلیمان کا بھی ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے آخری دنوں میں شب و خون مارنا چاہتی ہے اور جب کے الیکٹرک کی نجکاری کی گئی تھی تو ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ یوٹیلیٹی کی نجکاری نہ کی جائے ۔ اب اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں ۔ رضا ربانی نے کہا کہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن میں وفاق کے شیئر موجود ہیں اور یہ دونوں ادارے وفاق کے ہیں ۔

وفاق کو چاہئے کہ وہ ان کا جھگڑا ختم کرائے جبکہ ایک وزیر کہہ رہا ہے کہ ہم انہیں بلیک میل کر رہے ہیں ۔ لیکن کراچی کے عوام جو مشکلات برداشت کر رہے ہیں ، وہ وفاقی اداروں کے آفس کا مسئلہ ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر 18 ویں ترمیم کو رول بیک کیا گیا تو وفاق کے لیے خطرے کی گھنٹی ہو گی ۔ سعید غنی نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد گورنر کو صوبائی اداروں میں رول نہیں ہے ۔