زراعت کے علاقوں میں ہائوسنگ سکیموں پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

ہسپتالوں کے عملے کو بھی الیکشن ڈیوٹی پر مامور کرنے کے خلاف سمیت 2تحاریک التوائے کار بھی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی گئیں

منگل اپریل 13:56

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) زراعت کے علاقوں میں ہائوسنگ سکیموں پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کی قرارداد سمیت 2تحاریک التوائے کار پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی گئیں ۔ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ملک تیمور مسعود کی جانب سے جمع کرائی گئی قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ لاہور سمیت صوبہ بھر میں غیر قانونی ہاسنگ سکیموں کی بھرمار ہے ،سرعام عوام کو لوٹنے کا غیر قانونی دھندہ عروج پر کوئی پوچھنے والا نہیں،زراعت کے لیے مختص علاقوں میں بھی ہاسنگ مافیا نے سکیمیں بنا لی جس سے سبزیوں اور فصلوں کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔

اگر یہ سلسلہ جاری رہا تھا اندیشہ ہے کی صوبہ میں غذائی قلت پیدا ہوگی۔۔قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ زراعت کے لیے مختص علاقوں میں ہاسنگ سکیمیں بنانے پر پابندی عائد کرے۔

(جاری ہے)

تحریک انصاف وسطی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات اور رکن پنجاب اسمبلی ڈاکٹر مراد راس نے ایک تحریک التوائے کار پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نجی اخبار کی خبر کے مطابق الیکشن کمیشن نے نرسز سمیت ہسپتالوں کے عملے کو بھی الیکشن ڈیوٹی پر مامور کرنے سے الیکشن ڈیوٹی پر مامور کرنے سے علاج معالجہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے آئندہ عام انتخابات کے لئے ہسپتالوں کے سٹاف کو بھی ڈیوٹی پر لگا دیا ہے ان میں جنرل ہسپتال کی 360 نرسز اور 363 دیگر ملازمین جن میں لیب ٹیکنیشنز، آپریشن تھیٹر اسسٹنٹ اور دیگر شعبوں کے اہلکار شامل ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر ہسپتالوں سے بھی الیکشن ڈیوٹی کے لئے سٹاف مانگا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں نرسز سیمیت پیرامیڈیکس کی پہلے سے کمی کا سامنا ہے اب الیکشن ڈیوٹی پر بڑی تعداد مین نرسز اور عملے کو مامور کرن سے صورتحال مزید بدتر ہونے کا خدشہ ہے۔۔تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی سعدیہ سہیل رانا نے ایک تحریک التوائے کار پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نجی اخبار کی خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے ایک ارب 24 کروڑ کی 325 ترقیاتی سکیمیں ختم کر دیں کئی سکیموں کے فنڈز میگا ترقیاتی سکیموں اور حکومتی ارکان اسمبلی کی سفارشات پر ان کے حلقوں میں منتقل کر دیئے گئے۔

جنوبی پنجاب اور دیگر محروم اضلاع کے فنڈز نکال کر نئی سکیموں کو منتقل ہوئے ہیں فنڈز جاری کرنے کی منظوری ایوان اور دیگر متعلقہ فورم سے لی ہی نہیں گئی جبکہ میرٹ کے برعکس نئی ترقیاتی سکیمیں شامل ہوئی۔ یہ معاملہ حکومت پنجاب نے مارچ میں خفیہ طور پر کیا۔