’حکومت معاشی اصلاحات میں کامیاب، اداروں کی نجکاری میں ناکام‘

پاکستان کو بھارت کے ساتھ تجارت کے لیے چینیوں سے مشورہ لینے اور ان کا ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے، فرحت اللہ بابر

بدھ اپریل 15:34

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنے دورِ اقتدار میں توانائی اور معاشی اصلاحات نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کی نجکاری میں ناکام ہورہی جس کے باعث اسے معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ ا?ف مارکیٹ اکانومی (پرائم) کی جانب سے ’وعدوں اور کارکردگی کے درمیان‘ کے عنوان سے پیش کردہ رپورٹ میں کیا گیا، جو حکمراں جماعت کے الیکشن منشور سے ان کے دورِ حکومت کا موازنہ کرتی ہے۔

رپورٹ شائع کرنے کی تقریب کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ علاقائی تجارت کو لوگوں سے لوگوں کے درمیان روابط اور تجارت کے ذریعے فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے بجائے اسے بطور سیکیورٹی پالیسی کے لیے ا?لہ کار کے طور پر استعمال کیا جائے گا تو ملکی معیشت ایک محدود ہوجائے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت 3 ارب روپے سے کم ہوکر ایک ارب 50 کروڑ روپے تک کم ہوگئی ہے، آج چاہ بہار کے ذریعے 80 فیصد بڑے کنٹینرز افغانستان میں داخل ہورہے ہیں جبکہ کابل نے اپنے ملک میں پاکستانی مال بردار ٹرک کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

پی پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات ناساز ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم کم ہوگیا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا انحصار دونوں حکومتوں کے تعلقات پر ہوتا ہے۔انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان بھی سیاسی محاذ پر حالات اچھے نہیں ہیں، لیکن پھر بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارت ہر سال بڑھی ہے، اس لیے پاکستان کو بھارت کے ساتھ تجارت کے لیے چینیوں سے مشورہ لینے اور ان کا ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کاروبار میں قیمت اور کوالٹی میں مسابقت سے قاصر ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے ذہن، جنہیں خطے میں امن کو درپیش مسائل سے خطرہ ہے، ریاست میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے علاقائی تجارت کی مخالف کرتے ہیں۔اس رپورٹ کے مصنف زٴْہیر عباسی کا کہنا کہ حکومت نے کامیابی کے ساتھ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو ختم کیا لیکن ٹیکس اصلاحات اور سرکاری اداروں کی نجکاری میں ناکام ہوگئی۔

سابق مشیر خارجہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سرتاج عزیز کا اس کانفرنس میں بذریعہ تحریری بیان کہنا تھا کہ حکمراں جماعت نے اپنے دورِ حکومت میں اقتصادی ترقی کو دو گنا کیا اور ملک میں توانائی بحران سے پیدا ہونے والی صورتحال کو بہتر کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے ملک میں انٹرنیٹ کی سہولیات کو بہتر کیا اور تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی کو ملک میں متعارف کرایا۔

پرائم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی سلمان کا کہنا تھا کہ ملکی سیاست میں تین بیانیے ہیں، ایک ترقی کا، دوسرا انصاف کا جبکہ تیسرا حقوق کا بیانیہ ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستانی عوام غیر سیاسی عناصر کے بجائے سیاست دانوں پر اپنے اعتماد کو بحال کریں۔پرائم کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں ترقی کے اشاریے ترقی کی جانب ہیں جبکہ ملک میں افراطِ زر قابو میں ہے تاہم اس کا زیادہ تر دارو مدار بیرونِ عوامل پر ہے جن میں سب سے اہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہیں۔رپورٹ میں آئندہ مالی خسارہ بڑھنے، ذرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور قرض بڑھنے سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔