مفتاح اسماعیل کو وفاقی وزیر بنانے پر حکمران جماعت میں وزرا ء مملکت اور ارکان کا شدید احتجاج سامنے آیا

مفتاح کو وفاقی وزیر بنائے جانے پر مریم اورنگزیب،طارق فضل چوہدری اور انوشہ رحمان ناراض ہوگئے تھے، بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کی بھی دھمکی د ی وزیراعظم کو فوری تینوں کو وفاقی وزیر بنانا پڑا ، ماروی میمن بھی وفاقی وزیر کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں مفتاح اسماعیل کے وفاقی وزیر بننے کے بعد تین وزراء مملکت کو ہنگامی وفاقی وزیر بنائے جانے کی اندرونی کہانی

اتوار اپریل 19:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو وفاقی وزیر بنائے جانے کے بعد تین وزراء مملکت کو ہنگامی طور پر کیوں وفاقی وزیر بنایا گیا اس کی اندرونی کہانی آن لائن نے حاصل کرلی ہے۔مفتاح کو وفاقی وزیر بنائے جانے پر مریم اورنگزیب،،طارق فضل چوہدری اور انوشہ رحمان ناراض ہوگئے تھے اور انہوں نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کی بھی دھمکی دے دی تھی جس پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو فوری طور پر ان تینوں کو وفاقی وزیر بنانا پڑا جبکہ ماروی میمن بھی وفاقی وزیر کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔

مسلم لیگ ن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹر یا ایم این اے نہ ہونے کے باوجودمشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو وفاقی وزیر بنائے جانے پر حکمران جماعت میں وزرا مملکت اور ارکان کا شدید احتجاج دیکھنے میں سامنے آیا تھا ایک غیر منتخب شخص کو وزیر بنانے پر مریم اورنگزیب انوشہ رحمان طارق فضل رانا افضل سمیت دیگر ناراض ہوگئے اور ان کا موقف تھا کہ ان کی خدمات اور جدوجہد کو نظرانداز کرکے ایک جونیئر کو وفاقی وزیر بنا دیا گیا ہے اس ساری صورتحال میں مریم نواز نے اپنے والد کو معاملہ حل کرنے کے لئے مداخلت کی تجویز دی جس کے بعد نواز شریف نے ٹیلی فون پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ہدایات دیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے حکم پر طارق فضل مریم اورنگزیب اور انوشہ رحمان کو وفاقی وزیر بنایا گیا جبکہ مریم نواز کی شفارش پر لیلی خان کو بھی وزیر مملکت بنادیا گیا جبکہ ماروی میمن کو وفاقی وزیر کا درجہ دینے کا فیصلہ خود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کیا اور یہ تمام ہنگامی اقدامات پارٹی میں مزید اختلافات کو روکنے کے لئے اٹھائے گئے تاہم زرایع کا کہنا ہے کہ مفتاح اسماعیل کو وفاقی وزیر بنانے پر پارٹی کے بیشتر ارکان ناراض ہیں جن میں وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل بھی شامل ہیں مگر وہ اگلا ٹکٹ ملنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں اس لیے خاموش ہی زرایع نے انکشاف کیا کہ وفاقی وزرا کے تقر ر میں پارٹی صدر شہباز شریف کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ ایوان صدر کو بھی27 اپریل کی دوپہر آگاہ کیا گیا کہ تین مزید وزرائ مملکت وفاقی وزیر کا حلف اٹھائینگے پہلے ان کے شیڈول میں صرف مفتاح اسماعیل کا بطور وزیر حلف اٹھانا ہی شامل تھا۔

(جاری ہے)

زرایع نے بتایا کہ حکومتی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ قبل ان چاروں کو وفاقی وزیر بنانے کا مقصد خزانے پر بوجھ ڈالنے کے علاؤہ کچھ نہیں ہے کیونکہ وفاقی وزرائ کی مراعات وزرائے۔مملکت سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں ۔