دنیا میں بچوں کی سب سے بڑی قربانی کے آثار دریافت

Ameen Akbar امین اکبر پیر اپریل 02:07

دنیا میں بچوں کی   سب سے بڑی قربانی کے آثار دریافت

لیما ، پیرو میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے بچوں کی سب سے بڑی قربانی کے آثار دریافت کیے ہیں۔  نیشنل جیوگرافک نے  بتایا کہ یہاں 140 سے زائد نوعمر بچوں کی باقیات سامنے آئی ہیں جو 550 سال پہلے  مذہبی قربانی کے طور پر 200 چھوٹے جانوروں کے ساتھ مارے گئے تھے۔
یہ جگہ شمال مغربی پیرو میں  لا لیبیرتاڈ میں بحر الکاہل کے سامنے ایک چٹان کے اوپری حصے میں واقع ہے۔

اس شمالی علاقے میں قدیم چیمو تہذیب پروان چڑھی جس کے لوگ چاند کی پرستش کیا کرتے تھے۔
یہ پہاڑی  شمال مغربی ساحلی شہر تروخیو، پیروکے باہر واقع ہے، جو پیرو کا تیسرا سب سے بڑا شہر ہے جس کی آبادی 800،000 ہے۔
نیشنل جیوگرافک کا کہنا ہے کہ انسانی قربانی کے واقعات ہسپانوی نو آبادیاتی دور میں ازٹیک، مایا اور انکا میں پیش آئے تھے اور جدید سائنسی کھدائی کی دستاویزات کے مطابق ، غیر معروف کولمبین چیمو تہذیب میں اتنے بڑے پیمانے پر بچوں کی قربانی کے ثبوت ملے ہیں جو کہ دنیا میں کہیں اور نہیں پائے گئے۔

(جاری ہے)


تحقیق کرنے والی ٹیم نے  اسے امریکہ میں بڑے پیمانے پر بچوں کی قربانی کا سب سے بڑا واقعہ اور ممکنہ طور پر دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑا واقعہ قرار دیا۔
اس جگہ پر کھدائی 2011 میں اس وقت شروع ہوئی جب تحقیقاتی ٹیم کو قریب واقع 3،500 سالہ پرانے مندر سے   42 بچوں اور 76  چھوٹے جانوروں کی باقیات ملیں۔
اس وقت سے جاری کھدائی پانچ سال بعد مکمل ہوگئی تو معلوم ہوا کہ اس مقام پر 1400 سے 1450 کے درمیانی عرصے میں  یہاں 140 بچے قربانی کیے گئے۔

میگزین رپورٹ کے مطابق بچوں اور جانوروں کے ڈھانچہ نما باقیات  سے علم ہوا ہے کہ سینے کی ہڈیاں  کٹی ہونے کے ساتھ ہی پسلیاں بھی اپنی جگہ سے کھسکی ہوئی تھیں۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ قربانیوں کے دوران ان کے سینوں کو کاٹ کر کھولا  گیا تھا اور شاید دل کو  کھینچ نکالنے کی غرض سے انہیں الگ کر دیا گیا تھا۔
محققین کا کہنا تھا کہ بچوں کی عمریں 5 اور 14  سال کے درمیان تھی، اگرچہ ان میں بھی زیادہ تر 8 اور 12 سال کے درمیان تھے۔ ان کے مرنے پر ان کی لاشیں مغرب کی سمت سمندر میں دفن کر دی گئیں تھیں۔یہ ساری ہلاکتیں بہت منظم طریقے سے کی گئیں تھیں۔

متعلقہ عنوان :