نواز شریف نے اپنے خلاف دائر تینوں ریفرنسز میں واجد ضیاءکا بیان قلمبند کرنے کی درخواست دائر کردی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر اپریل 12:49

نواز شریف نے اپنے خلاف دائر تینوں ریفرنسز میں واجد ضیاءکا بیان قلمبند ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 اپریل۔2018ء) احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ تفتیشی افسرعمران ڈوگر کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔سابق وزیراعظم نوازشریف اوران کی صاحبزادی مریم نواز احتساب عدالت میں حاضری کے بعد روانہ ہوگئے جبکہ استغاثہ کے گواہ تفتیشی افسرعمران ڈوگر کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔

احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران نیب نے لندن فلیٹس ریفرنس کا ٹرائل پہلے مکمل کرانے کا فیصلہ کیا، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ تفتیشی افسرعمران ڈوگرکا بیان ریکارڈ کرلیں۔

(جاری ہے)

سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل کی جانب سے نئی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کیس آخری مرحلے میں ہے، تفتیشی افسر کا بیان قلمبند کرنے سے دفاع متاثر ہوگا۔

نوازشریف کے وکیل کی جانب سے تینوں ریفرنسزمیں واجد ضیاءکا بیان قلمبند کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا گیا کہ تینوں ریفرنسزمیں ایک جیسے الزامات ہیں، ایک ساتھ ٹرائل کریں،العزیزیہ اورفلیگ شپ ریفرنسزمیں واجدضیاءکا بیان قلمبند کرائیں۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہمارا دفاع ظاہرہوجائے گا ، جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءکا ریفرنسزمیں بیان ریکارڈ کریں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ واجد ضیاءپرجرح سے پہلے تینوں ریفرنسزمیں بیان کا سوچتے، پہلے مرحلے میں لندن فلیٹس ریفرنس کا ٹرائل چاہتے ہیں، سردار مظفر نے کہا کہ وکیل صفائی کارروائی کوبلڈوزکرنا چاہتے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کے گواہوں کی ترتیب پراسیکیوشن کا اختیارہے، وکیل صفائی کی دفاع متاثرہونے کی بات پرفیصلہ ہوچکا ہے۔

سردار مظفر نے کہا کہ عمران ڈوگرصرف ایون فیلڈریفرنس میں تفتیشی ہیں، بیان قلمبند ہونے سے دفاع متاثرہونے کی بات درست نہیں ہے، گواہ کٹہرے میں پیش ہوچکا ہے اب یہ نئی درخواست لے آئے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ پراسیکیوشن کے بھی قانونی حقوق ہوتے ہیں، شفاف ٹرائل اورکیا ہوسکتا ہے ایک گواہ پر18 دن جرح کی گئی، تفتیشی کا بیان قلمبند کرنے سے پہلے وکیل صفائی کوموقع دیا گیا۔

سردار مظفر نے کہا کہ واجد ضیاءکے بعد فطری طورپرتفتیشی افسراگلے گواہ ہیں، چاہتے ہیں پہلے ایون فیلڈریفرنس کو مکمل کرلیا جائے۔استغاثہ کے گواہ عمران ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ بطورڈپٹی ڈائریکٹرنیب لاہورمیں کام کررہا ہوں، 28 جولائی 2017 کے فیصلے کے بعد تفتیش کے لیے تعینات کیا گیا۔گواہ نے کہا کہ مجازاتھارٹی نے تفتیش کرنے کا کہا تفتیش ایون فیلڈ پراپرٹیز سے متعلق تھی، 3 اگست2017 کوتحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ جے آئی ٹی والیم ایک سے والیم نائن اے ریفرنس کا اہم جزو ہیں، نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ جے آئی ٹی رپورٹ کیسے پیش کرسکتے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ دستاویزہے جسے بطورشواہد حاصل کیا گیا، سپریم کورٹ نے دستاویزات کی روشنی میں ریفرنس کا حکم دیا۔سردار مظفر نے کہا کہ تفتیشی افسرنے جے آئی ٹی رپورٹ کوبطورشواہد حاصل کیا، جے آئی ٹی رپورٹ کوشامل نہ کیا گیا توکیس خراب ہوجائے گا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ تفتیشی افسرجے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کرسکتے، جے آئی ٹی رپورٹ صرف واجد ضیاءہی عدالت میں پیش کرسکتے ہیں، تفتیشی افسر صرف اپنے جمع شواہد ہی عدالت میں جمع کراسکتا ہے۔نیب پراسیکیوٹرسردار مظفر نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ کے لیے تیارکی گئی تھی، تفتیشی افسررپورٹ کو اپنے مواد کے طورپرپیش کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسرنے جے آئی ٹی رپورٹ اپنے مواد کے طورپرحاصل کی، وکیل صفائی کوجے آئی ٹی رپورٹ پہلے ہی مل چکی ہے، اب جے آئی ٹی رپورٹ سے ان کا کون ساحق متاثرہوجائے گا۔معززجج نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسرجوموادجمع کراناچاہتے ہیں وہ ریفرنس سے متعلق ہے؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ اس میں فلیگ شپ ریفرنس سے متعلق مواد بھی ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ مکمل دستاویزہے جسے ہم ایک ساتھ جمع کرانا چاہتے ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ تفتیشی افسرصرف پرائمری شواہد ہی پیش کرسکتا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پرسابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے گواہ ڈی جی آپریشنز نیب ظاہر شاہ پرجرح مکمل کی تھی۔