بہتر سیکیورٹی حالات، صنعتی علاقوں میں بہتر بجلی کی فراہمی اور سی پیک کے تحت رواں برس پاکستان کی معاشی ترقی 5.8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، معاشی ماہرن

پیر اپریل 18:34

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) معاشی ماہرین نے امیدظاہرکی ہے کہ ملک میں ڈومیسٹک طلب میں مسلسل اضافے، بہتر سیکیورٹی حالات، صنعتی علاقوں میں بہتر بجلی کی فراہمی، بہتر نظام ترسیل اور پاک چین اقتصادی راہداری(((سی پیک))کے تحت چینی سرمایہ کاری کے نتیجے میں رواں برس پاکستان کی معاشی ترقی 5.8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے ۔ ماہرین نے بتایا کہ14-2013کے مالی سال کے بعد اقتصادی ترقی میں پھیلائو دیکھنے میں آیا کیونکہ گزشتہ پانچ برس میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ 4.8 فیصد رہا جبکہ 2008 سے 2013 کے درمیان اوسطا گروتھ 2.8 فیصد رہی تھی۔

اکائو نٹنگ فرم(کے پی ایم جی)ہادی اینڈ کو کے پارٹنر امین ملک نے بتایا کہ میرا خیال ہے کہ رواں برس اقتصادی اشاریوں میں بہتری آئے گی، حالیہ بجٹ میں بڑے پیمانے پر ٹیکس میں کٹوتی سے نئی سرمایہ کاری کے رحجان میں اضافہ ہوگا اور گرین منصوبوں میں توسیع ہو گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے غیر قانونی ذرائع سے حاصل آمدنی کو رئیل اسٹیٹ میں چھپانے کے راستے بند کرنے سے سرمایہ کار مختلف صنعتی شعبوں کی طرف آئیں آگے اور اقتصادی ترقی کی شرح میں اضافے کا سبب بنے گی۔

امین ملک نے خدشہ ظاہر کیا کہ بیرونی کھاتوں کی مد میں اقتصادی ترقی کو تھوڑا دھچکا لے گا۔انہوں نے کہاکہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا کر چینی اور روسی سرمایہ کار مارکیٹ میں سرمایہ لگائیں گے اور ایکسپورٹ میں اضافے سے روپے کی قدر مستحکم ہوگی اور اس طرح بیرونی کھاتوں سے جوڑے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اے کے ڈی سیکیورٹیز کے معاشی ماہر علی اصغر نے موجودہ اقتصادی ترقی کی شرح کو عارضی اور مختصر المعیاد قرار دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ اقتصادی ترقی کی وجہ درآمدی اشیا میں تیزی اور بڑھتی ہوئی کھپت سے ہے اور اس طرح کی اقتصادی بہتری مستحکم نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ اقتصادی ترقی کی ایک بڑی وجہ بیرونی قرضے ہیں لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے دروازے پر دوبارہ دستک دینا پڑے گی، اگر ہم نے بیل آئوٹ کیلیے مزید فنڈز واپس کیے تو ہمیں اگلے کئی برسوں تک منفی نتائج کا سامنا رہیگا۔