بلوچستان میں 32قدیم درختوں کی زندگی خطرے میں پڑھ گئی

پیر اپریل 20:31

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) بلوچستان اسمبلی میں 32 قدیم درختوں کی زندگی خطرے میں پڑھ گئی ہے محکمہ جنگلات بلوچستان نے اسمبلی کے نئے بلڈنگ کی تعمیر کے نام پر 68 کروڑ روپے کی لاگت سے بنے والے قائمہ کمیٹی کے دفاتر کیلئے بنائے جانے والے بلڈنگ کی جگہ پر موجود درخت کاٹ کی این او سی جاری کرنے سے اس بات پر انکار کردیا ہے کہ اتنے بڑے ٹھیکے کا ہونے کے باجود ٹینڈر میں فرم کے پاس ٹری لوکیٹر یعنی درخت ایک جگہ سے نکال دوسری جگہ لیجانے والی مشین کا ہونا لازمی کیوں نہیں کیا گیا، اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ آفیسر نیاز خان کاکڑ نے موقف اختیار کیا ہے کہ پشین میں صرف 4 درخت کاٹے پر سپریم کورٹ نوٹس لے چکی ہے اور جسٹس قاضی فائز عیسی اس معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ بات سامنے آنے پر سپریم کورٹ دوبارہ نوٹس لے ان کو طلب کرسکتی ہے جس کی وجہ سے وہ کسی صورت ان 32 درختوں کو این او سی جاری نہیں کرینگے عوامی حلقوں نے جہاں forest officersاصولی موقف پر داد دی وہی پر ماحولیات پر کام کرنے والے اداروں اور چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔