مقبوضہ کشمیر میں بھار تی مظالم کیخلاف او آئی سی کا ہنگامی اجلاس

نہتے کشمیریوں پر مظالم کی مذمت ، حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوںکے مطابق حل ہونا چاہیے،سربراہ کشمیر کمیٹی عبداللہ العلیم خطے میں بنیادی انسانی حقوق کو پاما ل کیا جارہا ہے، پاکستان مسئلہ کشمیر کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتاہے ،تہمینہ جنجوعہ غلام محمد صوفی کی ممبر ممالک کو بھارتی مظالم کے حوالے تفصیلی بریفنگ

پیر اپریل 21:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے بڑھتے ہوئے حالیہ مظالم کے معاملے پر اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے جدہ میں ہنگامی اجلاس منعقد ہو ا۔ کشمیر کمیٹی کے سربراہ عبداللہ العلیم نے اجلا س کی صدارت کرتے ہوئے نہتے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت کی اور کہا ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم اور ممبر ممالک کی ہمدردیاں کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کی حمایت کرتے ہیں،انہوںنے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوںکے مطابق حل ہونا چاہیے۔

پاکستان کی جانب سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے وفد کی قیادت کی اور کہا کہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے گزشتہ مہینوں کے دوران کاروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، اور مسلح بھارتی فوجی معصوم شہریوں پر ظلم کی داستانیں رقم کررہے ہیں، گزشتہ ہفتوں کے دوران آٹھ سالہ آصفہ بانو کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا، جبکہ خطے میں بنیادی انسانی حقوق کو پاما ل کیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی ، سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ سیکرٹری خارجہ نے او ، آئی ،سی کے ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل خطے میں امن وامان کیلئے بہت ضروری ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کیاجائے۔ کشمیریوں کے نمائندہ غلام محمد صوفی نے ممبر ممالک کو بھارتی مظالم کے حوالے تفصیلی بریفنگ دی او ر مسئلہ کشمیر کو دونوںممالک کے درمیان مسائل کی جڑ قراردیا۔

انہوںنے کہا کہ بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر کے اندر بنیادی انسانی حقوق کو پامال کررہے ہیں، اور معصوم بچوں او رخواتین کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے۔واضع رہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم میں کشمیری کی حمایت کیلئے 1994ء میں ایک سیل قائم کیا گیا جس کا مقصد مسلم ممالک کی طرف سے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کی یقین دہانی کرانا تھا۔ اجلاس میں آزبائیجان، ترکی،، سعودی عرب،، اور نائیجر کے نمائندوںنے شرکت کی۔۔۔ شمیم محمود