شمالی کوریا نے جوہری ہتھیار تلف کرنے کیلئے امریکا سامنے بڑی شرط رکھ دی

امریکا چڑھائی نہ کرنے کا باضابطہ اعلان کرے، جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائیں گے، کم جان امریکا شمالی کوریا سے ثبوت چاہتا ہے، وہ حقیقی ہوں، محض غوغا آرائی نہ ہو، جان بولٹن

پیر اپریل 21:50

شمالی کوریا نے جوہری ہتھیار تلف کرنے کیلئے امریکا سامنے بڑی شرط رکھ ..
پیانگ یانگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) شمالی کوریائی صدر کم جانگ نے کہا ہے کہ اگر امریکا چڑھائی نہ کرنے کا باضابطہ اعلان کرے تو جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائیں گے، امریکا شمالی کوریا سے ثبوت چاہتا ہے اور وہ حقیقی ہوں، محض غوغا آرائی نہ ہو۔غیر ملکی میڈیا کے مطابقشمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اٴْن مذاکرات کے مقام سرحدی گاؤں پنمون جوم میں گفتگو کررہے ہیں۔

شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اٴْن نے اپنے جنوب کوریائی ہم منصب کو اپنی پہلی تاریخی ملاقات کے موقع پر بتایا ہے کہ اگر امریکا باضابطہ طور پر کوریا کی جنگ کے خاتمے اور شمالی کوریا پر حملہ نہ کرنے کا وعدہ کرے تو ان کا ملک اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائے گا۔جنوبی کوریا کے ایوان صدر نے اتوار کو اس تاریخی ملاقات سے متعلق بعض تفصیل جاری کی ہے اور کہا ہے کہ کِم جونگ اٴْن نے جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن سے جمعہ کو ملاقات میں شمالی کوریا کی جوہری تجربات کی جگہ کو مئی میں بند کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس تمام عمل کے بارے میں جنوبی کوریا اور امریکا کے صحافیوں اور ماہرین کو تفصیل فراہم کریں گے۔

(جاری ہے)

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے شمالی کوریا کے صدر کی جانب سے امریکا کے فوجی چڑھائی نہ کرنے کی صورت میں جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کے اعلان پر سرد مہری کا اظہار کیا ہے۔ان سے جب سی بی ایس کے پروگرام ’’ فیس دا نیشن ‘‘ میں یہ سوال کیا گیا کہ کیا امریکا ایسا کوئی وعدہ کرے گا تو جان بولٹن نے کہا: ’’ ہم پہلے بھی اس طرح کی باتیں بہت مرتبہ سن چکے ہیں۔

یہ شمالی کوریا کا پروپیگنڈا ہے اور وہ اس معاملے میں خودکفیل ہے‘‘انھوں نے کہا:’’ ہم ان سے ثبوت چاہتے ہیں اور وہ حقیقی ہوں، محض غوغا آرائی نہ ہو‘‘۔پیانگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کی بحالی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے جنوبی کوریا کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ کِم جانگ اٴْن نے اپنے جوہری ہتھیاروں سے نمٹنے کے بارے میں حقیقی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ سیول کے ان عہدے داروں کی کوششوں کے نتیجے میں کِم جونگ اٴْن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مئی یا جون میں پہلی ملاقات متوقع ہے۔