سالانہ منصوبہ 2018-19، تعلیمی معیار کی بہتری کیلئے بنیادی سہولیات کی فراہمی،

ایجوکیشن منیجر اور پرنسپلز کیلئے علیحدہ کیڈر، خواتین اساتذہ کی تعداد بڑھانے، تعلیمی بجٹ میں اضافہ اور موجودہ پرائمری سکولوں کو لوئر سیکنڈری سکول میں اپ گریڈ کرنے کی سفارشات

پیر اپریل 22:26

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) ملک میں تعلیمی معیار کی بہتری کیلئے بنیادی سہولیات کی فراہمی، ایجوکیشن منیجر اور پرنسپلز کیلئے علیحدہ کیڈر، خواتین اساتذہ کی تعداد بڑھانے، تعلیمی بجٹ میں اضافہ، دیہی علاقوں میں خواتین اساتذہ کی تعیناتی بڑھانے، موجودہ پرائمری سکولوں کو لوئر سیکنڈری سکول میں اپ گریڈ کرنے کی سفارشات دی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

سالانہ منصوبہ 2018-19ء میں تعلیم کی بہتری، سکولوں میں بچوں کے داخلے بڑھانے اور بچوں کے سکول چھوڑنے کی روک تھام کیلئے سفارش کی گئی ہے کہ والدین کیلئے آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ وہ اپنے بچوں بالخصوص بچیوں کو تعلیم کیلئے سکولوں میں بھیجیں، سیکورٹی کے اقدامات کو مزید بڑھایا جانا چاہئے۔ انفراسٹرکچر کی ترقی کے ذریعے سکولوں کے درمیان فاصلہ کم کیا جائے، سکول میں حاضری سے سوشل پروٹیکشن پروگرامز کو مربوط کیا جائے۔ ورکنگ چلڈرن کیلئے فلیکسیبل سکول آورز متعارف کرائے جائیں۔ رسمی تعلیم کے ساتھ ہنرمندی کی تربیت دی جائے جن علاقوں میں شرح خواندگی کم ہے ان میں بجٹ بڑھایا جائے اور ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کو ریگولر کیا جائے۔

متعلقہ عنوان :