اسلام آباد میں تحریک لبیک کا دھرنا ،ْحکومت کے ساڑھے 32 کروڑ روپے خرچ ہوئے

دھرنے کے دنوں میں اسلام آباد پولیس کی معاونت کے لیے فرنٹیئر کانسٹیبلری کو بھی تعینات کیا گیا تھا ،ْ ڈپٹی کمشنر آفس

پیر اپریل 23:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) پاکستان کی حکومت کی جانب سے گذشتہ مالی سال 2017-18 کے اخراجات کے بارے میں جاری کی گئی دستاویز کے مطابق اسلام آباد میں مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کئی روز تک جاری رہنے والے دھرنے کے سبب امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے حکومت نے 32 کروڑ 45 لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دھرنے کے دوران امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے سول انتظامیہ کی مدد کے لیے نیم فوجی فورس ایف سی کو تعینات کیا گیا تھا۔

گذشتہ برس نومبر میں مذہبی جماعت کے شرکا نے اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر فیض آباد کے مقام پر دھرنا دیا تھا، یہ دھرنے تین ہفتے تک جاری رہا تھا۔

(جاری ہے)

دھرنے کے مقام کے اردگرد اسلام آباد پولیس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ایف سی کے اہلکار تعینات تھے۔حکومت کی جانب سے گذشتہ سال کے اخراجات کے بارے میں جاری کی گئی دستاویز کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی حدود میں نیم فوجی دستوں کی تعیناتی پر مجموعی طور پر حکومت کو 25 کروڑ 19 لاکھ روپے ادا کرنے پڑے جس میں سے 15 کروڑ روپے تعینات کیے جانے والے اہلکاروں مختلف الاؤنس کی مد میں دئیے گئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر آفس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دھرنے کے دنوں میں اسلام آباد پولیس کی معاونت کے لیے فرنٹیئر کانسٹیبلری کو بھی تعینات کیا گیا تھا جو مختلف شفٹس میں اپنے فرائض سرانجام دیتے تھے۔انھوں نے بتایا کہ امن و امان کیلئے ایف سی کو بلوانے اٴْن کی نقل وحرکت اور دیگر ضروریات پوری کرنے کی وجہ سے زیادہ رقم خرچ ہوئی۔دوسری جانب دھرنے کے سبب اسلام آباد پولیس کے اخراجات بھی بڑھے۔۔بجٹ میں فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس نے آپریٹنگ اخراجات کی مد میں آٹھ کروڑ 35 لاکھ روپے اضافی خرچ کیے۔یہ رقم پولیس کے زیر استعمال گاڑیوں، نفری کی نقل و حرکت اور دیگر جاری اخراجات کی مد میں استعمال کی گئی۔