محنت کش خواتین کا مرد کے مقابلے میں زیادہ استحصال ہوتا ہے،مزدور رہنما

پیر اپریل 23:46

ملتان۔ 30اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) محنت کش خواتین کا مرد کے مقابلے میں زیادہ استحصال ہوتا ہے‘ مزدوروں کی فلاح وبہبود اور ان کے حالات کار بہتر بنانے کیلئے کی گئی قانون سازی کے باوجود محنت کش خواتین کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اور یوم مئی اس مرتبہ بھی محنت کش خواتین کے لیے خوشی کی خبر لے کرنہیں آیا۔ان خیالات کااظہار محنت کش اورسوشل سیکٹر سے وابستہ رہنمائوں نے یوم مئی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

صدر سائوتھ پنجاب ورکرفیڈریشن آف ٹریڈ یونین دلاور عباس نے کہاکہ یوم مئی کے موقع پر مزدوروں کی ریلیوں اور مزدور لیڈر کی تقاریر صرف معمول کی کاروائی ہے۔محنت کش آج بھی استحصال کا شکارہیں خاص طورپر خواتین کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھایا جاتاہے ضرورت اس بات کی ہے محنت کش خواتین کیلئے خصوصی قانون سازی کی جائے ۔

(جاری ہے)

خاتون رہنماء مہک بٹ نے کہاکہ مہنگائی کے اس دور میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی روزگار کمانے کے لیے گھروں سے باہرنکلتی ہیں لیکن معاشرتی دبائو کی وجہ سے وہ بہت سی باتیں درگزر کرجاتی ہیںکہ اگر وہ گھروالوں کے سامنے آواز اٹھائیں گئیں تو انہیں گھر سے باہر نکلنے نہیں دیا جائے گا۔

اسی خوف سے وہ اپنے حقوق کاتحفظ نہیں کرپاتیں۔مزدور رہنماء مصور نقوی نے کہاکہ محنت کش خواتین سماجی دبائو کی وجہ سے کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہوتی ہیں تو ایسے میں ہم مردوں کوبھی اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔انہیں معاشرے میں اتنی ہی جگہ دینی ہوگی جتنی کہ مردوں کی ہے۔ مزدورعاشق بھٹہ نے کہاکہ آج پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ پر نہ صرف آوازاٹھائی جاتی ہے بلکہ ان کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے ادارے بھی بنائے گئے ہیں ہماری حکومت سے التجا ہے کہ محنت کش خواتین و مردوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی خاص ادارے بنائیں جائیں۔ ان کے بچوں کو پڑھانے کے لیے سکولوں کوبھی اہتمام کیا جانا چاہیے جہاں وہ مفت تعلیم حاصل کریں اوران کی اجرت میں بھی اضافہ کیا جائے۔