ایبٹ آباد کے کئی پرائیویٹ سکولوں نے یکم مئی کی تعطیل کے باوجود بچوں اور ٹیچروں کو بلوا کر قانون کی دھجیاں بکھیریں

بدھ مئی 13:06

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) ایبٹ آباد میں چند پرائیویٹ سکولوں کی اجارہ داری ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی، یکم مئی کو سرکاری تعطیل ہونے کے باوجود سکول بچوں اور ٹیچروں کو بلوا کر قانون کی دھجیاں بکھیرتے رہے، ٹیچروں اور طلباء و طالبات نے نے متعلقہ سکولوں کے خلاف محکمہ ایجوکیشن سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز یکم مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن منایا گیا اور پوری دنیا میں عام تعطیل تھی۔

ایبٹ آباد کے کچھ تعلیمی ادارے جن میں پرائم سٹارز سپلائی سرفہرست ہے، کے مالک نے اس روز بھی سکول کھلا رکھ کر قانونی کی دھجیریاں بکھیریں، چھٹی والے روز بھی ٹیچرز اور بچوں کو سکول بلوایا گیا۔ گذشتہ صبح اسی سکول کے بچوں کو روتے ہوئے سکول جاتے دیکھا گیا ہے، جب ان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں حکومت پاکستان نے چھٹی دے رکھی ہے جبکہ ہمارے پرنسپل اور ایم ڈی نے چھٹی کی بجائے سکول آنے کا کہا ہے، چھٹی والے دن چھٹی ہونی چاہئے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہئے۔

(جاری ہے)

اسی سکول کی ایک ٹیچر کا کہنا تھا کہ کوئی بھی سرکاری تعطیل ہو ہمارے سکول میں چھٹی نہیں دی جاتی، یہ کوئی طریقہ کار نہیں ہے، سرکاری تعطیل والے دن تعطیل ہونی چاہئے، معمولی تنخواہیں دینے کے باوجود سرکاری تعطیلات بھی ختم کر دی گئی ہیں جو ان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے، وفاقی حکومت کے تعطیل سے متعلقہ اقدامات پر عمل درآمد کروانا ضلعی انتظامیہ کا کام ہے، اگر کوئی سکول مالک چھٹی نہیں دیتا تو ایسے سکول کے خلاف بھاری جرمانوں سمیت اس کی بندش سے متعلق سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔