قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس،اراکین سینیٹ کی بجٹ کے حوالے سے سفارشات کا جائزہ لیاگیا

بدھ مئی 23:36

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) فنانس بل 2018 اور سالانہ بجٹ سٹیٹمنٹ کاجائزہ لینے اور سفارشات کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلا س میں فیصلہ کیا گیا کہ پہلے اراکین سینیٹ کی بجٹ کے حوالے سے سفارشات کا جائزہ لیا جائے گا اور پھر فنانس بل 2018 پر بحث کی جائے گی ۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فنانس بل 2018 میں موثر تجاویز کے حوالے سے سابق سینیٹر ایس ایم بھنڈر اور سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کی خدمات بھی حاصل کی جارہی ہیںجو کمیٹی اجلاس میں کمیٹی کی معاونت کریں گے ۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سید مظفر حسین شاہ ،چوہدری تنویر خان اور سراج الحق کی تجویز کردہ سفارشات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔

(جاری ہے)

سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے تجویز دی کہ پولٹری سیکٹر کے فروغ کیلئے پولٹری فیڈپر ڈیوٹی 17 فیصد کی بجائے 7 فیصد کی جائے جسے کمیٹی نے منظور کر لیا اور ویٹرنی ویکسی نیشن پر ڈیوٹی کو 18 فیصد سے 10 فیصد کیا جائے ۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈیوٹی پہلے ہی 11 فیصد ہے۔پولڑی اور لائیو سٹاک سیکٹر کے فروغ کیلئے مشینری کی ڈیوٹی 17 سے 7 فیصد کرنے کی تجویز بھی کمیٹی نے منظور کر لی ۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ آسٹریلین گائے کی ایمپورٹ پر ڈیوٹی 3 فیصد عائد ہے جبکہ بل اور سیمن ڈیوٹی فری ہیں ۔ زراعت کے فروغ کے حوالے سے زرعی مشینری پر دی جانے والی رعائت کو موجود سال بھی برقرار رکھنے کی سفارش کو کمیٹی نے منظو رکر لیا۔ قائمہ کمیٹی نے چوہدری تنویر کی بجٹ سفارشات کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا ۔ مسلم ممالک میں حلال فوڈانڈسٹری کے لئے اقدامات اٹھانے کی سفارش کو منظور کر لیا گیا اور 2022 تک کم ترقی یافتہ علاقوں میں صنعتوں کے قیام کیلئے ٹیکس ریفارمز اور ٹیکس فری کی سفارش کو بھی منظور کر لیا گیا ۔

سافٹ ویئر ہائوس اسلام آباد میں بنانے کی تجویز کو بھی کمیٹی نے منظور کر لیا جبکہ بجلی کی لائن لاسسز کو کم کرنے کے حوالے موثر اقدامات اٹھانے کی تجویز کو پاور ڈویژن کو تجویز بجھوا دی گئی اور چھوٹے کسان جن کی زمین ساڑھے بارہ ایکٹر ہو کو آٹھ فیصد پر قرض دینے اور فی ایکٹر 2.5 لاکھ دینے کی سفارش بھی منظور کر لی گئی ۔ وفاق کی سطح پر صاف پینے کے پانی کے منصوبوں کی فراہمی کیلئے سپیشل مانٹرنگ سیل قائم کرنے کی سفارش کو بھی منظور کرتے ہوئے وزارت کیڈ کو معاملہ بھیج دیا گیا۔

سینیٹر چوہدری تنویر خان نے تجویز دی کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت پیسے دینے کی بجائے چھوٹے کاروبار قائم کرنے کو فروغ دیا جائے ۔ جسے کمیٹی نے منظو ر کر لیا۔ سینیٹر سراج الحق کی تجاویزکا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ سینیٹر مشتاق احمد نے سینیٹر سراج الحق کی تجاویز کو کمیٹی اجلاس میں پیش کیا۔ تجویز دی گئی کہ حکومت کم سے کم قرض لے اور مستقبل میں قرض نہ لینے کی سفارش پر قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ کم سے کم غیر ملکی قرضے حاصل کیے جائیں اور واپس قرض کی ادائیگی کا موثر میکنزم بنایا جائے ۔

قائمہ کمیٹی نے صوبوں میں چھوٹے ڈیمز بنانے اور ڈیمز کیلئے فنڈز میں تین گنا اضافے کی تجویز کو سینیٹ قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کو بھیج دیا ۔ تجویز دی گئی کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 30 فیصد لیوی ڈیوٹی واپس لی جائے اور جنرل سیلز ٹیکس 10 فیصد سے زیادہ نافذ نہ کیا جائے۔ صحت اور تعلیم کیلئے جی ڈی پی کا پانچ فیصد مختص کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ یہ شعبے صوبائی معاملات ہیں ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جس میں قومی رنگ نظر آئے اور معاملہ آئی پی سی ڈی کو ریفر کر دیا گیا ۔

سینیٹر مشتاق احمد نے تجویز دی کہ فاٹا کیلئے 24.5 ارب کی بجائے 40 ارب روپے مختص کیے جائیں ۔سینیٹر اورنگزیب خان نے کہا کہ دہشت گردی کا سب سے زیادہ مقابلہ اور سامنا فاٹا نے کیا ہے۔2009 کے بعد کوئی نیا سکول نہیں بنا زلزلے سے تباہ ہونے والے گھروں کیلئے جو فنڈز فراہم کیے گئے وہ بہت کم تھے جس پر کمیٹی نے فاٹا کا بجٹ بڑھانے کی تجویز منظور کر لی ۔

سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ ایک سو روپے کے کارڈ سے 28 روپے ٹیکس کاٹا جاتا ہے جو غریب عوام کے ساتھ بہت زیادہ زیادتی ہے سوروپے کے کارڈ پر ٹیکس ختم کیا جائے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ موبائل فون پر ایڈوانس ٹیکس وصول کرنا سمجھ سے بالا تر ہے اور نائٹ پیکجز کو ختم کرنے کے معاملے کو کمیٹی نے پی ٹی اے کو معاملہ ریفر ر کر دیا ۔ سینیٹر مشتاق نے یہ تجویز بھی دی کہ ملکی معیشت کو سود سے پاک ہونا چاہیے اور اس حوالے سے موثر قانون سازی بھی ہونی چاہیے جس پر وزیر مملکت خزانہ رانا محمد افضل نے کہا کہ ملک میں اسلامک بنکنگ کو فروغ دیا جارہا ہے کمیٹی نے معاملہ وفاقی شرعی عدالت کو ریفر ر کر دیا ۔

کمیٹی نے سگریٹ کمپنیوں سے حاصل ہونے والے ٹیکس کو صحت کے شعبے میں خرچ کرنے کی سفارش کو بھی منظور کر لیا ۔ اور سمندر پار پاکستانیوںکی فلاح و بہبود زندگیوںا ورجائیدادوں کو محفوظ بنانے کیلئے سینیٹر سراج الحق کی تجویز کو او پی ایف کو ریفر کر دیا ۔ کمیٹی کے اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سلم مانڈوی والا ، سینیٹرز عائشہ رضافاروق ، مشاہد اللہ خان ، دلاور خان ، محمد اکرم ، محمد طلحہ محمود ، خانزادہ خان ، محسن عزیز ، اورنگزیب خان ، میاں محمد عتیق شیخ ، انوار الحق، سید مظفر حسین شاہ ، چوہدری تنویر خان اور مشتاق احمد کے علاوہ وزیر مملکت خزانہ رانا افضل ،سپیشل سیکرٹری خزانہ ، چیئرمین ایف بی آر ، ممبر کسٹم ایف بی آر ، ممبر پالیسی ایف بی آر ،وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کے حکام ، سابق سینیٹر ایس ایم بھنڈر ، سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔