نوازشریف ہی نیلسن اورنیسکول نامی آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں-نیب کے تفتیشی افسرکا بیان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مئی 14:33

نوازشریف ہی نیلسن اورنیسکول نامی آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں-نیب کے ..
 اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔03 مئی۔2018ء) احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف ریفرنس کی سماعت میں لندن فلیٹس کے تفتیشی افسراورگواہ عمران ڈوگرنے بتایا کہ نوازشریف نیلسن اورنیسکول کے بے نامی دارمالک ہیں۔جمعرات کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں،وکیل خواجہ حارث کی گواہ عمران ڈوگر پر جرح دوسرے روز بھی جاری ہے۔

احتساب عدالت میں گواہ تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے بتایا کہ نیلسن اورنیسکول کی تحقیقات کیں تاہم نیب کو موصول دستاویزات میں نوازشریف یا مریم نوازکا نام بطوربینفیشل آنرموجود نہیں، یوکے سنٹرل اتھارٹی سے خط وکتابت کرکے دستاویزات حاصل کیں۔

(جاری ہے)

پاکستان میں کسے موصول ہوئی یہ معلوم نہیں،تاہم لندن سے عثمان احمد نے دیں جو یوکے سنٹرل اتھارٹی میں پاکستان کے نمائندے ہیں، البتہ عثمان احمد کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

لندن فلیٹس کے اصل مالک،اونرنمبراورایڈریس سے متعلق تفصیلات مانگی گئیں تاہم ایم ایل اے میں نوازشریف مریم، حسن اورحسین نوازکا نام نہیں تھا،گواہ نے بتایا کہ نوازشریف نیلسن اورنیسکول آف شورکمپنیوں کے بے نامی دارمالک ہیں۔دوران سماعت وکیل خواجہ حارث اورنیب پراسیکیوٹرافضل قریشی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔قبل ازیںجوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی۔

نواز شریف اور مریم نواز عدالت میں پیش ہوئے۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے استغاثہ کے گواہ اور نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر پر جرح کی۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے عدالت سے درخواست کی کہ گواہ نے جو کچھ کہا ریکارڈ پر آنا چاہیے۔ تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے بتایا کہ تفتیش کے دوران سامنے آیا نیلسن اور نیسکول آف شور کمپنیاں ہیں، جن کے بے نامی دار مالک میاں نواز شریف ہیں، تاہم یہ درست ہے کہ ایم ایل ایز کے جواب میں نیب کو موصول دستاویزات میں نواز شریف،، مریم، حسن اور حسین نواز کے نام نہیں، دستاویزات جے آئی ٹی کے27 مئی2017 کو لکھے گئے ایم ایل اے کے جواب میں آئی تھیں، ایم ایل ایزمیں نیلسن اور نیسکول کے اصل مالک سے متعلق معلومات مانگی گئی تھیں۔