جماعت اسلامی خیبر پختونخوا حکومت سے علیحدہ ہوگئی

جماعت اسلامی ایم ایم اے کا حصہ بننے کے بعد ایک اچھے موڈکیساتھ علیحدہ ہورہی ہے ،وزیراعلیٰ پرویزخٹک کی پریس کانفرنس وزیراعلیٰ کے خلاف اعتماد یا حکومت کیخلاف کوئی دوسرا محاذکھلنے پر جماعت اسلامی حکومت کا ساتھ دیگی، اتحاد11نکات پرقائم تھاایم ایم اے کے فیصلوں کے پابند ہیں،جے یوآئی حکومت سے علیحدگی کافیصلہ خودکریگی،عنایت اللہ

جمعرات مئی 20:36

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) جماعت اسلامی 4 سال گیارہ ماہ چھبیس دن کی رفاقت ختم کرکے پی ٹی آئی کی حکومت سے علیحدہ ہوگئی ۔دونوں جماعتوں نے باہمی رضامندی کے ساتھ ایک دوسرے سے راہیں جدا کیں۔اس بات کااعلان وزیراعلیٰ پرویزخٹک اورجماعت اسلامی کے سینئروزیرعنایت اللہ نے وزیراعلیٰ ہائوس پشاورمیں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

اس موقع پر سپیکراسدقیصراورجماعت اسلامی کے وزراء مظفرسید اور حبیب الرحمن بھی موجودتھے۔وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے کہاکہ جماعت اسلامی کے ساتھ شراکت اقتدارکے بعد ہم نے اچھا وقت گزاراہے جماعت اسلامی ایم ایم اے کاحصہ بننے کے بعد ایک اچھے موڈکیساتھ علیحدہ ہورہی ہے آج ہم ایک ٹرینڈسیٹ کررہے ہیں جوکہ دوسری جماعتوں کیلئے قابل تقلید مثال ہے۔

(جاری ہے)

جماعت اسلامی کے جانے پرافسوس ہے لیکن سیاست میں ایسا ہوتارہتاہے اوریہ ایک مکمل طور پر سیاسی فیصلہ ہے ۔اس موقع پر سینئرصوبائی وزیر عنایت اللہ نے کہاکہ 2013ء میں گیارہ نکات پرتحریک انصاف کے ساتھ معاہدہ ہواتھا جن میں نصاب میں ہونیوالی تبدیلیوں کی واپسی،بونیر اوردیر میں تعلیمی اداروں کے قیام ،صوبائی حقوق، میرٹ کی بالادستی ، بلدیاتی انتخابات کاانعقاداوردیگر نکات شامل تھے، پانچ سال تک شریک اقتدار رہے ،برداشت کی قوت کو فروغ دیا، صوبے کے عوام کے مفاد کا خیال رکھا اورپانچ سال تک تحریک انصاف کے ساتھ رہے ۔

عنایت اللہ نے واضح کیاکہ اگر وزیراعلیٰ کے خلاف اعتماد کا ووٹ آتا ہے یا حکومت کیخلاف کوئی دوسرا محاذکھلتا ہے تو جماعت اسلامی حکومت کا ساتھ دیگی ۔انہوں نے کہاکہ جے یوآئی خودفیصلہ کریگی کہ وہ کب اقتدارسے علیحدہ ہوگی لیکن ایم ایم اے کے پلیٹ پر ہونیوالے فیصلوں کی جماعت اسلامی پابند ہے ۔ پریس کانفرنس کے دوران جماعت اسلامی کے تین صوبائی وزراء عنایت اللہ،مظفرسید اور حبیب الرحمن نے اپنے استعفے وزیراعلیٰ پرویزخٹک کے حوالے کردئیے ۔