قبائلی علاقہ جات2019 ء میں فاٹا میں ضم ہوجائیں گے،پرویزخٹک

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں منظوری ، مارچ،اپریل میں قبائلی علاقہ جات میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد ہوگا، 30مئی تک فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کردیاجائے گا ،وزیر اعلی خیبر پختون خوا کی پریس کانفرنس

جمعرات مئی 23:16

قبائلی علاقہ جات2019 ء میں فاٹا میں ضم ہوجائیں گے،پرویزخٹک
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویزخٹک نے اعلان کیا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات2019 ء میں فاٹا میں ضم ہوجائیں گے جس کے لیے وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں منظوری دے دی گئی ہے ۔انہوں نے جمعرات کے روزوزیراعلیٰ ہائوس پشاو رمیں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ بدھ کے روز وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ نیشنل سیکورٹی کونسل اجلاس میں قبائلی علاقہ جات میں اصلاحات کا بھرپور طریقے سے جائزہ لیاگیا اور یہ فیصلہ ہواہے کہ اس سال اکتوبر میں فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیاجائیگا جبکہ آئندہ سال 2019ء میں مارچ،اپریل میں قبائلی علاقہ جات میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد ہوگا جبکہ 30مئی تک فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کردیاجائے گا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیاگیاہے کہ اس سلسلے میں آئین میں جتنی بھی ترامیم کی ضرورت ہے وہ موجودہ دور ہی میں پارلیمنٹ کرے گی تاکہ بلاکسی تعطل کے فاٹا کے انضمام کے حوالے سے کام شروع کردیاجائے ۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیاہے کہ فاٹا کے حوالے سے فیصلہ کرلیاجائے کیونکہ اب ’’کرویامرجائو‘‘والی بھی صورت حال نہیں بلکہ اب یہ کام کرنا ہی کرنا ہے اور فاٹا کو ہر صورت قومی دھارے میں لانا ہے جسے اب کسی بھی طور باہر نہیں رکھا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ پختون تحفظ موومنٹ کے مطالبات کے حوالے سے گورنر اورصوبائی حکومت نے جو مشترکہ جرگہ تشکیل دیاہے وہ اپنا کام کررہا ہے اور ان سے ملاقاتیں ہوئی ہیں کیونکہ ان کے مطالبات ایسے ہیں کہ جو بات چیت کے ذریعے حل ہوسکتے ہیں اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی کسی انتہا کو جانے کی بجائے بات چیت کے ذریعے ہی معاملات کو حل کریں جس کے لیے میں خود بھی ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہماری حکومت ختم ہوبھی گئی تو اس کے باوجود بھی پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ نگران حکومت بھی کہیں باہر سے نہیں آئے گی بلکہ یہیں کے لوگ اس میں شامل ہونگے جو ان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاہم ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنی رخصتی سے قبل ان کے مطالبات کو حل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔