پنجاب یو نیورسٹی اور لیسکو کے درمیان نیوکیپمس میںنئے گرڈ سٹیشن کی تعمیر کے معاملہ کی تحقیقات کرنیکا فیصلہ ،چار رکنی انکوائری کمیٹی کی تشکیل ، تحقیقاتی کمیٹی مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں یونیورسٹی کی سرکاری اراضی لیز پر دینے کے بدلے مالی فوائد حاصل کرنیوالوں سے بھی چھان بین کی جائیگی

جمعہ مئی 15:19

لاہور۔4 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) پنجاب یو نیورسٹی لاہور اور لیسکو کے درمیان نئے گرڈ سٹیشن کی تعمیر کے معاملے کی تحقیقات کرنیکا فیصلہ کرلیاگیا،اعلیٰ حکام کی منظوری کے بعد ہائر ایجوکیشن پنجاب نے چار رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی ، کمیٹی کے کنوینئر ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ احمد کمال مان ہوں گے جبکہ دیگر ممبران میں ڈپٹی سیکرٹری بجٹ خالدبشیر،رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹرخالد خان اور ایک ڈین جسے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نامزد کریں گے شامل ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی جامعہ پنجاب اور لیسکو کے مابین مفاہمتی یادداشت (ایم اویو)کی مکمل چھان بین کرکے نئے گرڈ سٹیشن کی تعمیرکے لئے مفاہمتی یاداشت میں قوائد وضوابط کی خلاف ورزی کا جائزہ لے گی جبکہ اس بات کو پیش نظر رکھا جائیگا اس ایم او یو کے نتیجے میں دونوں اداروں کے درمیان کسی پرائیوٹ شخص یا آفیسر نے یونیورسٹی کی سرکاری اراضی لیز پر دینے کے بدلے کوئی مالی فوائد تو حاصل نہیں کئے۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق کمیٹی جامعہ پنجاب اور لیسکو کے مابین ہونیوالے ایم او یو کے تمام پہلوئوں کی تفصیلی چھان بین بھی کریگی اور اس کیس سے متعلقہ تمام افراد سے پوچھ گچھ کریگی۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ا نکوائری کمیٹی 8مئی بروزمنگل تک تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ مرتب کریگی جبکہ پنجاب یونیورسٹی اور لیسکو کے درمیان ایم او یو میں ہونیوالی بے قاعدگیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کے علاوہ اپنی سفارشات بھی پیش کرنے کی پابندہوگی۔

قبل ازیںپنجاب یو نیورسٹی لاہور اور لیسکو کے درمیان نئے گرڈ سٹیشن کی تعمیرکی منظوری پنجاب یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کے اجلاس میں دی گئی تھی۔یاد رہے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ازخودنوٹس کے ذریعے پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے این ٹی ڈی سی کو گرڈسٹیشن کیلئے 80کنال سرکاری اراضی لیز پر دینے کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر کو بطوروائس چانسلر عہدے سے بھی ہٹا دیا تھا۔