قائداعظم کی تصویرپراحتجاج،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انٹرنیٹ سروس بند

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ مئی 16:36

قائداعظم کی تصویرپراحتجاج،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انٹرنیٹ سروس ..
ممبئی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔04 مئی 2018ء) : بھارتی حکومت نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹانے کیخلاف احتجاجی مظاہرین اور دنیا بھر میں احتجاج کی کوریج روکنے کیلئےعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انٹرنیٹ سروس بند کردی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر غائب کرنے کا واقعہ طول پکڑ گیا ہے۔

بانی پاکستان کی تصویر ہٹانے پراحتجاجی مظاہرے بھارت کے دوسرے شہروں سمیت دنیا بھر میں پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر بھارتی حکومت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انٹرنیٹ سروس بند کردی ہے۔ تاکہ احتجاجی مظاہرین کی آواز کو دبایا جاسکے۔ انتہا پسند ہندوؤں نے بھی مظاہرین پرتنقید کرنا شروع کردی ہے۔

(جاری ہے)

ایک بھارتی مصنف کا کہنا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نہ توعلی گڑھ یونیورسٹی میں زیرتعلیم رہے اور نہ ہی وہاں استاد تھے۔

واضح رہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو1938ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اعزازی رکنیت دی گئی تھی اوران کی تصویر دیگر رہنماؤں کے ساتھ  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس یونین آفس میں لگائی گئی تھی۔ تاہم بھارتی جنتا پارٹی کے رہنماء ستیش کمار نے رواں ہفتے 30 اپریل کو علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر طارق منصور کے نام لکھے گئے خط میں یونیورسٹی میں آویزاں محمد علی جناح کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

جس کے ساتھ ہی قائداعظم کی تصویر یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس یونین آفس سے غائب کردی گئی ہے۔ دوسری جانب قائد اعظم کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی گیلری سے تصویر ہٹانے کیخلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ احتجاج کی بڑھتی ہوئی شدت کوروکنے کیلئے بھارتی حکومت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں انٹرنیٹ سروس بند کری ہے تاکہ احتجاجی مظاہرین کی آواز کو پوری دنیا میں بلند ہونے سے روکا جاسکے۔