کے سی سی آئی کا وفداس سال ترکی جائے گا،مفسر ملک

کراچی چیمبر ترکی کے چیمبرز،تاجروں کے ساتھ رابطے بڑھائے، ترکش قونصل جنرل

جمعہ مئی 16:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) کراچی میں ترکی کے قونصل جنرل تولگا یوساک ) (Tolga Ucakنے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو مشورہ دیاہے کہ وہ ترکی کے چیمبرز اور تاجر وصنعتکار برادری کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رابطے استوار کرے ۔خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں تجارتی حجم کو بہتر بنانے کے لیے جدت پر توجہ دی جائے جبکہ دونوں ملکوںکو سیاحت کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کرنے چاہیے۔

کے سی سی آئی میں ایک اجلاس کے دوران انہوں نے کہاکہ کراچی چیمبراستنبول چیمبر آف کامرس کے ساتھ رابطوں کو مزید بہتر بنائے جو دونوں برادر ممالک کی تاجر برادریوں کے لیے فائدے مند ثابت ہوگا۔کے سی سی آئی زیادہ سے زیادہ تجارتی وفود ترکی بھیجنے کا اہتمام کرے جو دونوں ملکوں میں تجارت و سرمایہ کاری یقینی بنانے کے لیے راہ ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں کمرشل قونصلر ترکش قونصلیٹ مورات موستو، کے سی سی آئی کے صدر مفسر عطا ملک، سینئر نائب صدر عبدالباسط عبدالرزاق،نائب صدر ریحان حنیف اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔ترکش قونصل جنر ل نے کہاکہ پاکستان اور ترکی معشیت کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات سے فوائد حاصل کرسکتے ہیں ۔بزنس ٹو بزنس، عوام کے عوام سے رابطوں سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ حاصل ہوگا جبکہ طلبا کے باہمی تبادلوں کی بھی ضرور حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

ترکی کے طلبا پاکستان کی کئی بہترین یونیورسٹیوں اور کالجوں سے انگلش کی اچھی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں امن وامان کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ ترکی کے عوام کو کراچی کے بارے میں محفوظ اور سیاحت کے لیے لحاظ سے پرکشش شہر کے طور پر آگاہی فراہم کی جائے جس کے نتیجے میں یقینا ترکی سے مزید سیاحوں کی پاکستان آمد کی اُمید کی جاسکتی ہے۔

پاکستان میں سیاحت کے دستیاب مواقعوں کے بارے میں ترکی کے سیاحوں کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے استنبول میں ایک چھوٹا دفتر بھی قائم کیا جانا چاہیے۔ترکش قونصلیٹ کے کمرشل قونصلرمورات موستو نے کہا کہ وہ پاکستان اور ترکی کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو جتنا جلد ممکن ہو حتمی شکل دینا چاہتے ہیں. تاہم ایف ٹی اے کو حتمی شکل دینے پر مذاکرات اس سال پاکستان اور ترکی میں انتخابات کے باعث کچھ تاخیر کا شکار ہو سکتے ہں ۔

ایف ٹی اے کو کچھ اس طرح سے حتمی شکل دی جانی چاہیے جودونوں ملکوں کے لیے فائدے مند ثابت ہو ۔قبل ازیں کے سی سی آئی کے صدر مفسر عطا ملک نے ترکش قونصل جنرل کا خیر مقدم کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان 700 ملین ڈالر کے کم تجارتی حجم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ کوششوں سے اسے بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ کراچی پاکستان کا اقتصادی و معاشی حب ہے جو ترکی کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کو مشترکہ شراکت داری اور سرمایہ کاری کے شاندار مواقع فراہم کرتا ہے۔

کراچی سرمایہ کاری کے لحاظ سے ترکش سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش شہر ہے جہاں کاروبار کر کے اور مشترکہ شراکت داری کے ذریعے زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جاسکتا ہے۔مفسر ملک نے زور دیاکہ کراچی چیمبر ترکی سے تجارت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے اور باہمی تجارت بڑھانے کی نئی راہیں تلاش کرنا چاہتا ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ تجارت کے فروغ سے دونوں ملکوں کے تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔

ترکی جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات کے استحکام سے پاکستان کو اقتصادی بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی اور دونوں ملکوں میں خوشحالی آئے گی۔۔میرا یہ ماننا ہے کہ ترکی اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تجارت کے فروغ کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔دونوں ممالک باہمی دلچسپی کی مختلف کموڈیٹیز کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔ مفسر ملک نے کہا کہ کراچی چیمبر پاکستان اور ترکی کے درمیان کاروباری، باہمی تفہیم اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ہم پاکستان میں ترکی کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور پاکستان ترکی کے درمیان کاروبار کی ترقی کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے ترکی کے قونصل جنرل کی تجویز پر اس سال کے سی سی آئی کا وفد ترکی بھیجنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔