کوئٹہ، منگوچر کی تاریخ ساز کانفرنس بلوچستان کی سیاسی حالات کارخ تعین کریگی،

آئندہ انتخابات میں ووٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی تو خطرناک نتائج برآمد ہونگے،مولانا عبدالغفور حیدری ودیگر کا تقریب سے خطاب

جمعہ مئی 17:31

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) جمعیت علماء اسلام کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ منگوچر کی تاریخ ساز کانفرنس بلوچستان کی سیاسی حالات کارخ تعین کرے گی،آئندہ انتخابات میں ووٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوںگے،2013میں ووٹ چوری کرکے جن کو اقتدارمیں لایا انہوں نے بلوچستان کے خزانے کو دوہاتھوں سے لوٹ کر کرپشن کی، آج منہ چھپائے پھر رہے ہیں،ووٹروں کو آزاد چھوڑکر منصفانہ نتائج لانا چاہتے ہیں،عوام کی بھی یہی خواہش ہے کہ دیانتدار قیادت سامنے آئے جس کادامن صاف ہو اور مسائل حل کرے، جمعیت کے کسی کارکن نے آف شور کمپنیاں نہیں بنائیں اور نہ کسی پر کرپشن کاالزام ہے، آئندہ انتخابات میںہمارا راستہ نہ روکا جائے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرکزی جنرل سیکریٹری جمعیت علماء اسلام مولاناعبدالغفورحیدری، جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکریٹری ملک سکندرایڈووکیٹ، جمعیت علماء اسلام کے رہنماء اسپیشل اسسٹنٹ وزیر اعلیٰ آغانواب شاہ ودیگر نے جہانگیر خان علیزئی، محمد آصف علیزئی، محمد قاسم، سلیمان خلجی، حبیب اللہ خلجی، محمدعثمان راجپوت، میر شوکت مینگل، سیدعرفان شاہ ودیگرکے جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مولانا عبدالغفورحیدری کاکہنا تھا کہ نوجوانوںکو دیکھ کر مسرت محسوس کررہا ہوں کہ انہوں نے جمعیت علماء اسلام اور اس کی پالیسیوں کو درست سمجھتے ہوئے شمولیت کااعلان کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاستدانوں نے عجیب نعرے دے کر قوم کااستحصال کیا،1973میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرحوم چیئرمین نے روٹی کپڑا اور مکان کانعرہ لگایا، جس کے جواب میںہم نے کہا کہ روٹی کپڑا اور مکان کا ضامن ہے قرآن،بدقسمتی سے لوگ قرآن کو چھوڑ کااس نعرے کے پیچھے گئے وہ جذباتی نعرہ تھا،جس کے پیچھے پی پی نے سالوں سال حکومت کی،معیشت کی بہتری کے نعرے لگے ،کہاگیا کہ کشکول توڑ دیںگے اور آئندہ بھیک نہیں مانگیںگے، معاشی طورپر ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کریںگے،،قرضہ نہیں لیںگے، اس نے بھی 35سال تک حکومت کی اور ملکی معیشت دنبدن زبوں حالی کی طرف جارہی ہے، اور یہ بھی صرف نعرہ ہی ثابت ہوا، تیسرا نوجوان جس کو یہودیوں نے تخلیق کیا اس نے تبدیلی نئے پاکستان کی بات کی اور پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی بات کی،اگرچہ اس کو وفقی حکومت نہ ملی مگر کے پی کے میں اس کی مکمل حکومت ہے، اس لیڈر نے پاکستان کی اسلامی ثقافت اور مشرقی تہذیب کو برباد کردیا، نوجوان نسل کو بے راہ روی کاراستہ دکھانے اورخاص طورپر قوم کے نوجوان بچیوں کو ناچ گانے ڈانس اور ڈھول باجے کیلئے ذہنی طورپر تیارکرنے اوراس کو مادرپدرآزاد سوچ دلانے کیلئے شب وروز محنت میں ہے،نعروں کیساتھ حقیقت بھی عیاں ہوتی گئی اور پتہ چلا کہ یہ صرف دھوکے ہیں، نوجوان ایک بار پھر مسلم جذبات کیساتھ جمعیت علماء اسلام میںشامل ہورہے ہیں، اس موقع پر جہانگیر خان علیزئی، محمد آصف علیزئی ودیگر نے نیشنل پارٹی سے مستعفی ہوکر جمعیت علماء اسلام میںشمولیت کااعلان کیا اور کہا کہ قوم اورمذہب کے نام پر سابقہ حکمرانوں نے مایوسی کے سوا کچھ بھی نہیں دیا، جمعیت کے پلیٹ فارم سے سیاست عبادت بھی ہے، مل کر جدوجہد کریںگے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکریٹری ملک سکندرایڈووکیٹ نے نوجوانوں کو شمولیت اختیار کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی خوش نصیبی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر فتن دورمیںآپ نوجوانوں کو اپنے دین کی خدمت کیلئے چن لیا ہے، انہوں نے کہا کہ آج کل کی سیاست میں ہرزاویے سے نفرتوں کے بیج بوئے جارہے ہیں، جمعیت میں تقسیم انسانیت نہیں ہے ،قبائل اللہ نے صرف پہچان کیلئے دیئے انسان کے کردار اس کو بلندیوں تک پہنچاتے ہیںاور اللہ کے نزدیک وہ عظیم ہے جومتقی وپرہیزگار ہو ، انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء کی جماعت ہے علاقہ اور زبان کی بنیادپر کوئی فرق نہیں ،اقلیتی برادری سمیت جو بھی جمعیت میں آیا س کو ہم نے لبیک کہا ہے،اس موقع پر مولانا عبدالغفور حیدری کاکہنا تھا کہ 70سالوں سے جب سے یہ ملک بنا اور جو نعرہ تھا اس سے انحراف کرکے غداری کی گئی ، وہ اسلام کانعرہ لاالہ الا اللہ تھا، انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کانظر کرم ہے کہ یہ ملک بنیادی مقصد سے ہٹ کر بھی چل رہاہے، آین اورضابطوںسے ہٹ کر نہیں چلا جاسکتا، انہوں نے کہا ملک پر جنہوں نے حکومت کی انہوں نے قومی دولت کولوٹ کر آف شورکمپنیاں بنائیں، اورجمعیت اس نظام میں دامن بچا کر چلتی رہی ہے ،ہم نے کوئی آف شورکمپنی نہیں بنائی نہ ہمارے پارٹی کے کسی رہنماء نے مالیاتی اداروں سے قرضے لے کر معاف کرائے ہوں،چھوٹی جماعتوں کو کم عرصے کیلئے اقتدار ملا اور انہوں ے نے کرپشن میں ماہروں کو بھی پیچھے چھوڑدیا،لسانیت اور قوم کے نام پر ووٹ دینے والے جوانوں سے پیسے لے کر بھرتی کرنے کی کوشش کی گئی، نوجوانوں کی سوچ ہے کہ ایسی جماعت اقتدار میںآئے جس کا دامن صاف ہو ،انہوں نے کہا کہ دینی جماعت کو متحدہ مجلس عمل کے نام سے ایک پلیٹ فارم پر متحدکیا،انہوں نے کہا کہ منگوچر کا تاریخ ساز کانفرنس بلوچستان کی سیاسی حالات کارخ تعین کرے گا، بڑے شمولیتی جلسے اور تقاریب کے باوجود اگر ہمارے ووٹوں کو چوری کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے خطرناک نتائج سامنے آئیںگے،2013میں بھی نتائج چوری کئے گئے ، مگر سسٹم کو بچانے کیلئے ہم نے مزاحت نہیں کی، جن کو حکومت دی گئی انہوں نے بلوچستان کے خزانے کو لوٹا ورکرپشن کی آج منہ چھپائے پھررہے ہیں،انہوں نے کہا کہ50پولنگ اسٹیشنوں سے وزیر اعلیٰ کے پیچھے سب جانتے ہیں کیا قوت ہوگی،،جمعیت صوبے کی سب سے بڑی جماعت ہے اور ہمیشہ ریاست کیساتھ مضبوطی کیساتھ کھڑے ہیں، سیاسی حکومتیں آتی رہتی ہیں مگر ریاست ہمارا ہے ،13مئی کاجلسہ ناچ گانااور ڈھول کے بغیر ہوگا،انہوں نے کہا کہ ووٹ اور عوام ی طاقت سے آںے والی حکومتوں کاراستہ نہ روکا جائے۔